.

امریکا اور روس کے بیچ جوہری عدم پھیلاؤ کے معاہدے پر عمل درامد آج ختم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اقوام متحدہ کے سکریٹری جنرل انتونیو گوٹیرس نے جوہری ہتھیاروں سے لیس ممالک کے درمیان کشیدگی میں اضافے پر تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے جمعرات کے روز صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے خبردار کیا کہ "جمعے کے روز انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے پر عمل درامد ختم ہونے کے ساتھ ہی یہ دنیا جوہری جنگ پر لگی انتہائی اہم اور قیمتی روک سے محروم ہو جائے گی"۔

گوتیرس کے مطابق اس کے نتیجے میں بیلسٹک میزائل کی صورت میں موجود خطرہ کم ہونے کے بجائے مزید بڑھ جائے گا۔ انہوں نے دوٹوک انداز میں کہا کہ "اس امر کے انجام سے قطع نظر تمام فریقوں پر لازم ہے کہ وہ عدم استحکام کا سبب بننے والی پیش رفت سے اجتناب کریں .. اور عالمی سطح پر ہتھیاروں کے پھیلاؤ پر روک لگانے کے لیے ایک مشترکہ نئی راہ تک پہنچنے کے واسطے فوری کوششیں کریں"۔

مقررہ پروگرام کے تحت امریکا آج دو اگست کو انٹرمیڈیٹ رینج نیوکلیئر فورسز (آئی این ایف) معاہدے سے علاحدہ ہو جائے گا ... الا یہ کہ روس آخری لمحات میں اپنا درمیانی مار کرنے والا نیا میزائل تباہ کر دے جس کے بارے میں نیٹو اتحاد کا کہنا ہے کہ یہ مذکورہ معاہدے کی خلاف ورزی ہے اور یہ واشنگٹن کو اس بات پر اکسا رہا ہے کہ وہ ماسکو کو منہ توڑ جواب دینے کے لیے جدید وار ہیڈ تیار کرے۔ ادھر روس کا کہنا ہے کہ وہ آئی این ایف معاہدے کی شقوں کی مکمل پاسداری کر رہا ہے۔

گوٹیرس نے مزید کہا کہ "میں امریکا اور روس پر بھرپور زور دے رہا ہوں کہ وہ نیو اسٹارٹ معاہدے کی توسیع کریں تا کہ استحکام کو یقینی بنایا جا سکے .. اور ساتھ ہی جوہری ہتھیاروں کے عدم پھیلاؤ کے لیے آئندہ اقدامات پر مذاکرات کے لیے وقت متعین کریں"