.

داعش نے عدن میں پولیس مرکز پر حملے کی ذمے داری قبول کر لی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں داعش تنظیم کی شاخ نے جمعے کے روز ایک اعلان میں عدن شہر میں پولیس کے ایک مرکز پر خونی حملے کی ذمے داری قبول کر لی ہے۔

جمعرات کے روز عدن میں دو حملے ہوئے تھے۔ پہلی کارروائی میں خود کش بم باروں نے شہر کے علاقے الشیخ عثمان میں ایک پولیس مرکز کو دھماکے سے اڑا دیا جب کہ دوسری کارروائی میں حوثی باغیوں نے الجلاء کیمپ میں ایک عسکری پریڈ کو بیلسٹک میزائل اور ڈرون طیارے سے نشانہ بنایا۔

ان دونوں حملوں میں مجموعی طور پر کم از کم 49 افراد جاں بحق ہو گئے جن میں اکثریت سرکاری فورسز کے ارکان کی ہے۔ عدن شہر گذشتہ دو برس سے بین الاقوامی سطح پر تسلیم شدہ یمن کی آئینی حکومت کا صدر مقام ہے۔

یمن میں القاعدہ اور داعش تنظیموں کی شاخوں سے تعلق رکھنے والے شدت پسند عناصر نے حوثیوں کے ساتھ یمنی حکومت کی جنگ کی انارکی سے فائدہ اٹھاتے ہوئے دھماکوں، فائرنگ اور قتل کی کارروائیاں انجام دیں۔ یہ کارروائیاں یمن میں اپنے وجود کا دائرہ کار بڑھانے کی ایک کوشش ہے۔

اس سے قبل یمن نے جمعرات کے روز داعش کے خلاف سرگرم بین الاقوامی اتحاد میں شامل ہونے کا اعلان کیا ہے۔ اس سلسلے میں یمن کی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے یمنی وزارت خارجہ کا ایک بیان جاری کیا ہے۔ بیان کے مطابق "یہ اقدام یمنی حکومت کی اُن کوششوں کا حصہ ہے جو وہ دہشت گردی اور مذہبی و فکری انتہا پسندی کے خلاف جنگ میں انجام دے رہی ہے۔ یہ امور ایک خطرناک رجحان ہے جس کا کسی مذہب اور وطن سے کوئی تعلق نہیں"۔

وزارت خارجہ کے ایک ذمے دار ذریعے نے کہا کہ اگرچہ ایرانی نواز حوثی ملیشیا کی بغاوت کے سبب ملک کو سیکورٹی چیلنجوں کو سامنا ہے تاہم یمن تمام بین الاقوامی شراکت داروں کے ساتھ انسداد دہشت گردی کی کوششیں ، رابطہ کاری اور تعاون جاری رکھنے کے لیے پُرعزم ہے۔ ان شراکت دار ممالک میں سرفہرست یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ممالک اور امریکا ہے۔

داعش تنظیم کے خلاف بین الاقوامی اتحاد کی شکیل ستمبر 2014 میں عمل میں آئی تھی۔ اس کے رکن ممالک کی تعداد 80 ہے۔ بین الاقوامی اتحاد کا مقصد داعش تنظیم کا قلع قمع کر کے اسے ہزیمت سے دوچار کرنا ، اس کے نیٹ ورکس کا خاتمہ کرنا اور عالمی سطح پر توسیع کے حوالے سے تنظیم کی خواہشات کے سامنے ڈٹ جانا ہے۔

عراق اور شام میں فوجی مہم کے ساتھ بین الاقوامی اتحاد نے داعش تنظیم کے مالی اور اقتصادی انفرا اسٹرکچر سے نمٹنے کا عزم کر رکھا ہے۔ وہ سرحد کے راستے غیر ملکی جنگجوؤں کی آمد و رفت پر روک لگانے کے لیے بھی کوشاں ہے۔