.

سعودی عرب میں انڈونیشی گھریلو ملازمہ کو انصاف مل گیا

سعودی کوانڈونیشی ملازمہ کو ایک لاکھ 38 ہزار ریال ادا کرنے کا حکم

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کی وزارت لیبر نےمشرقی الخبر گورنری کے مقامی شہری کو انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو ملازمہ کو ایک لاکھ 38 ہزار ریال کی رقم ادا کرنے کا حکم دیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کےمطابق انڈونیشیا سے تعلق رکھنے والی ایک گھریلو ملازمہ 15 سال 6 ماہ سے سعودی شہری کے گھر پرملازمت کر رہی تھی۔ اس پورے عرصے میں وہ چھٹیاں گذارنے اپنے وطن واپس نہیں جا سکی۔ اس کے مالک نے اسے اس کی اجرت بھی نہیں دی حتیٰ کہ طویل عرصے تک اس کا اپنے اہل خانہ سے بھی رابطہ نہیں ہوسکا۔

اس نے اپنے حقوق کے لیے وزارت لیبرکو درخواست دی تھی۔ حکومت نے فوری انصاف کی فراہمی کی پالیسی کے تحت گھر پر ملازم رکھنے والے شخص کو طلب کیا۔ اس موقع پر برادر ملک انڈونیشیا کا سفارتی عمل بھی موجود تھا۔ ان کی موجودگی میں حکومت نے ملازمہ کو ایک لاکھ اڑتیس ہزار ریال کی رقم فوری ادا کرنے کا حکم دینے کے ساتھ اس کے وطن واپسی کے سفر کا انتظام کرنے کا بھی حکم دیا ہے۔

سعودی عرب کی قومی لیبر کمیٹی کے رکن ناصر الدوسری نے بتایا کہ حکومت نے انڈونیشی خادمہ اور اس کے کفیل کے درمیان صلح کا معاہدہ کرایا اور مالک کو حکم دیا ہے کہ وہ فور طورپر خادمہ کو ایک لاکھ اڑتیس ہزار ریال کی رقم ادا کرے۔ حکومت کے حکم پراس شخص نے چیک کی شکل میں انڈونیشی ملازمہ کو رقم ادا کردی ہے۔ اس کی وطن واپسی میں تاخیر پرہونے والے تمام اضافی اخراجات اور جرمانے کی رقم بھی سعودی شہری ادا کرے گا۔