حمد بن جاسم کو کمیشن کی ادائیگی، بارکلیز کے عہدے داران کے خلاف از سر نو عدالتی کارروائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

برطانیہ میں برکلیز بینک کے 3 سابق سینئر عہدے داروں کے خلاف از سر نو عدالتی کارروائی کا فیصلہ کیا گیا ہے۔ مذکورہ افراد پر پر 2008 میں قطر کے سابق وزیراعظم شیخ حمد بن جاسم کو خفیہ طور پر بھاری رشوت اور مالی کمیشن ادا کرنے سے متعلق الزامات ہیں۔ شیخ حمد اُس وقت قطر سوویرن ویلتھ فنڈ کے سربراہ تھے۔

اس کمیشن کے عوض قطر کی جانب سے برکلیز بینک میں خطیر رقم کی سرمایہ کاری کی گئی تھی۔ انگریزی ویب سائٹ"Law360" کے مطابق مقدمے کی از سر نو کارروائی کا فیصلہ ایک برطانوی جج نے رواں ہفتے کیا۔

بارکلیز کے تین سابق سینئر عہدے داران رچرڈ بوتھ، روجر جنکینز اور تھامس کیلارس کے خلاف مقدمے کی سماعت 7 اکتوبر کو ساؤتھ وارک کراؤن کی عدالت میں ہو گی۔

مالی بدعنوانی کے انسداد کے برطانوی بیورو SFO کی جانب سے اس بات کی تصدیق کی جا چکی ہے کہ سابق عہدے داران نے اسٹاک ایکسچینج اور بینک کے دیگر سرمایہ کاروں کو پیش کی جانے والی دستاویزات میں جھوٹ بولنے کے علاوہ ہیرا پھیری اور جعل سازی کی۔ اس مقصد کے لیے قطر کے سابق وزیراعظم حمد بن جاسم کے ساتھ مشکوک "اقتصادی مشاورتی سمجھوتا" کیا گیا تا کہ قطری عہدے دار کو 32.2 کروڑ پاؤنڈ کی رقم پہنچائی جا سکے اور اس کے مقابل بینک 11 ارب پاؤنڈ سے زیادہ کی رقم حاصل کر سکے۔

واضح رہے کہ برطانوی اپیل کورٹ نے جون میں بارکلیز کے سابق چیف ایگزیکٹو John Varley کو 2008 میں بینک کے سرمائے کو بڑھانے کے لیے دھوکہ دہی کے الزام سے بری کر دیا تھا۔ عدالت کے مطابق جان کے خلاف مقدمے کے دوبارہ آغاز کے لیے مطلوبہ شواہد حاصل نہیں ہو سکے۔

برطانوی سپریم کورٹ کے جج روبرٹ جے نے رواں سال اپریل میں برطانوی بیورو SFO کی جانب سے جان ویرلے کے خلاف دائر مقدمے کو خارج کر دیا تھا۔ مقدمے میں ویرلے پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ انہوں نے 2008 میں فرضی "مشاورتی خدمات" کے عوض قطر کو اضافی رقوم ادا کی تھیں تا کہ قطر کے سوویرن ویلتھ فنڈ سے جلد از جلد 3.9 ارب پاؤنڈ کی سرمایہ کاری حاصل کی جا سکے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں