زبردستی حجاب کی خلاف ورزی، ایرانی خواتین کو قید کی سزائیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے جبری حجاب کی ریاستی پالیسی کی خلاف ورزی کی پاداش میں دو خواتین کو 16 اور 23 سال قید کی سزائیں سنائی ہیں جب کہ متعدد خواتین کو چار ماہ کے لیے پابند سلاسل کردیا گیا ہے۔ ایرانی حکام نے ان خواتین پر 8 مارچ کو خواتین کے عالمی دن کے موقعے پر تہران میٹرو اور ریلوے اسٹیشینوں سمیت پبلک مقامات پر لوگوں میں پھول تقسیم کرنے کا بھی الزام عاید کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ایرانی پولیس نے ملک میں حقوق نسواں کے لیے کام کرنے والی خواتین کی بڑی تعداد کو حراست میں لے رکھا ہے۔ رواں سال اپریل میں ایرانی پولیس نے سرکردہ خواتین سماجی کارکنوں منیرہ عرب شاہی، ان کی بیٹی یاسمین اریانی اور موجگان کشاورز کو حراست میں لے لیا تھا۔

ایرانی نیوز ایجنسی'ہرانا' کے مطابق تینوں خواتین پر قومی سلامتی کے خلاف لوگوں کو اکٹھا کرنے، نظام حکومت کے خلاف منفی پروپیگنڈہ کرنے اور ملک میں فساد فی الارض کی راہ ہموار کرنے کی حوصلہ افزائی کے الزامات عاید کیے گئے ہیں۔

نیوز ایجنسی کے مطابق ایران کی انقلاب عدالت کے جج محمد مقیسہ نے اپنے فیصلے میں حکم دیا ہے کہ تینوں خواتین زبردستی حجاب کی خلاف ورزی پر 10 سال، نظام حکومت کے خلاف اکسانے پر ایک سال اور قومی سلامتی کو نقصان پہنچانے والی سرگرمیوں میں حصہ لینے پر پانچ سال قید کی سزا کا حکم دیا۔

موجگان کشاورز کو سات سال قید اور زندقہ کے الزام میں چھ ماہ کی اضافی قید کی سزا سنائی گئی۔

نام نہاد انقلاب عدالت کے جج نے خواتین کے ساتھ توہین آمیز سلوک کیا۔ انہیں بدنام زمانہ 'قرچک' جیل میں ڈالنے کی دھمکی دی جب کہ ان کے معاملات کیسز کی پیری کرنے والے وکلاء کو بھی فیصلے کے وقت مطلع نہیں کیا گیا۔

انسانی حقوق کی عالمی تنظیم ایمنسٹی کی طرف سے ایران میں خواتین کے ساتھ برتے جانے والے ظالمانہ سلوک اور نام نہاد عدالتوں کی طرف سے دی جانے والی سزائوں پر شدید تنقید کی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں