قطر، جی سی سی کا واحد ملک جہاں خواتین پر سفری پابندیاں ہیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

قطر خلیج تعاون کونسل ( جی سی سی) کا واحد ملک رہ گیا ہے جہاں ابھی تک خواتین کے لیے مرد سرپرستی کے قوانین نافذ العمل ہیں اور پچیس سال سے کم عمر کی خواتین اور لڑکیاں اپنے مرد سرپرست کے بغیر بیرون ملک سفر نہیں کر سکتی ہیں۔

سعودی عرب نے گذشتہ جمعہ کو اپنے ہاں نافذ العمل ایسی پابندی ختم کر دی تھی اور اس نے مملکت میں نافذ سرپرستی اور تولیتی نظام سے متعلق قوانین میں نمایاں ترامیم کرتے ہوئے اکیس سال سے زیادہ عمر کے مرد و خواتین کو اپنے سرپرست کی منظوری کے بغیر بھی سفر کرنے کی اجازت دے دی ہے۔

قطر میں نافذ سرپرستی کے قوانین کے تحت خواتین پر سفری قدغنیں عاید ہیں۔ قطر کی وزارت داخلہ کی ویب گاہ کے مطابق پچیس سال سے کم عمر اکیلی عورت کو بیرون ملک جانے کے لیے اپنے ولی کی رضا مندی درکار ہوتی ہے اور وہ اس کی اجازت کے بغیر ملک سے باہر سفر نہیں کر سکتی۔

قانون کے تحت قطری مرد حضرات اپنی بیویوں پر سفری پابندی عاید کرانے کے لیے عدالتوں سے رجوع کرسکتے ہیں۔ ’’شادی شدہ خواتین کو اپنی عمر سے قطع نظر بلا اجازت سفر کی اجازت ہے لیکن اگر کوئی خاوند یہ نہیں چاہتا کہ اس کی بیوی سفر کرے تو اسے اپنی بیوی کو سفر سے روکنے کے لیے مجاز اتھارٹی (عدالت) سے رجوع کرنا ہوگا‘‘۔

قطری مرد حضرات کے بارے میں وزارت داخلہ یہ کہتی ہے کہ "بلوغت کی قانونی عمر کو پہنچ جانے والے اٹھارہ سال یا اس سے زیادہ عمر کے لڑکوں (مردوں) کو سفر کے لیے کسی قسم کی اجازت درکار نہیں ہے‘‘۔

قطر کے سرکاری ای حکومت پورٹل ’حکومی‘ میں پاسپورٹس کی تجدید کے لیے رہ نما ہدایات دی گئی ہیں اور ان میں یہ واضح کیا گیا ہے کہ صرف اٹھارہ سال سے زاید عمر کے مرد شہری اپنے یا اپنے زیر کفالت بچوں (یا افراد) کے پاسپورٹس کی تجدید کے لیے درخواست دے سکتے ہیں۔ نیز وہ اپنی غیر شادی شدہ بیٹیوں، بہنوں اور بھانجیوں، بھتیجیوں کی جانب سے ایسی درخواست دے سکتے ہیں۔

سعودی عرب میں جمعہ کو جاری کردہ فرمان کے مطابق اب خواتین آزادانہ طور پر پاسپورٹس کے حصول کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔متعلقہ قانون میں کی گئی ترامیم کے مطابق خواتین اپنی شادی، طلاق یا بچوں کی پیدائش کا اندراج کرا سکتی ہیں اور وہ عائلی دستاویزات کے حصول کے لیے درخواست دے سکتی ہیں۔ اس فرمان میں یہ بھی واضح کیا گیا ہے کہ والد یا ماں، دونوں ہی بچّوں کے قانونی سرپرست ہوسکتے ہیں۔

جی سی سی کے دو اور رکن ممالک بحرین اور متحدہ عرب امارات میں بالغ عورتوں کے سفر کے لیے مرد سرپرستوں سے اجازت نامے کا نظام رائج نہیں ہے۔ کونسل کے پانچویں رکن ملک کویت میں خواتین کو2009ء میں مرد سرپرست کی اجازت کے بغیر سفر کا حق حاصل ہو گیا تھا۔ چھٹے ملک عُمان میں خواتین کو سفر کی آزادی حاصل ہے۔ البتہ شادی شدہ عُمانی خواتین کو پاسپورٹ کے حصول کے لیے اپنے خاوندوں سے اجازت کی ضرورت ہوتی ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں