وزارتِ عظمیٰ کے منصب پر صرف نیتن یاہو کو قبول کریں گے: لیکوڈ ارکان کی وضاحت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیل کی حکمراں جماعت لیکوڈ کے ارکان نے واضح کیا ہے کہ وہ انتخابات کے نتائج سے قطع نظر صرف بنیامین نیتن یاہو ہی کو وزارتِ عظمیٰ کے عہدے پر قبول کریں گے۔

لیکوڈ پارٹی نے اتوار کو ایک بیان جاری کیا ہے اور اس میں کہا ہے کہ پارلیمان (الکنیست) کے تمام ارکان نے ایک ’’متحدہ درخواست‘‘ پر دستخط کیے ہیں اور اس میں اس عزم کا اظہار کیا ہے کہ صرف نیتن یاہو ہی جماعت کی جانب سے وزارتِ عظمیٰ کے عہدے کے امیدوار ہوں گے اور ان کے سوا کوئی دوسرا امیدوار نہیں ہو گا‘‘۔

لیکوڈ پارٹی نے یہ وضاحت حفظ ماتقدم کے طور پر کی ہے تاکہ اس کی ممکنہ اتحادی جماعتیں نیتن یاہو سے وزارت عظمیٰ سے دستبرداری کا مطالبہ نہ کر سکیں۔

وہ اسرائیل کی تاریخ میں گذشتہ ماہ سب سے زیادہ برسراقتدار رہنے والے وزیر اعظم بن گئے تھے۔ ان سے قبل ڈیوڈ بن گوریان طویل عرصہ صہیونی ریاست کے وزیراعظم رہے تھے۔ نیتن یاہو اب مسلسل چوتھی مدت کے لیے امیدوار ہیں۔ اسرائیل میں سترہ ستمبر کو چھے ماہ سے بھی کم عرصے میں دوبارہ پارلیمانی انتخابات منعقد ہو رہے ہیں۔

لیکوڈ پارٹی اس سے پہلے اپریل میں منعقدہ پارلیمانی انتخابات میں حکومت بنانے کے لیے درکار اکثریت حاصل کرنے میں ناکام رہی تھی اور نیتن یاہو مخلوط حکومت کی تشکیل کے لیے دوسری جماعتوں کی حمایت بھی حاصل نہیں کرسکے تھے۔ انھیں بدعنوانیوں کے الزامات میں مختلف مقدمات کا سامنا ہے مگر آیندہ انتخابات سے قبل ان کے خلاف فردِ جرم عاید کیے جانے کا امکان نہیں ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں