.

سعودی عرب میں چٹانوں کےبیچ واقع پُراسرار خاموش بستی!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے جنوبی علاقے عسیرمیں کئی ایسے تاریخی مقامات موجود ہیں جو مملکت کی سیاحت کے لیے اہم سنگ میل کا درجہ رکھتے ہیں۔ انہی میں ایک 'غیہ' گائوں بھی ہے جو المجاردہ اور النماص گورنریوں کے درمیان پہاڑوں کے پیج واقع ہے۔ اپنے پراسرار اور قدرتی حسن کی بہ دولت یہ مقام سیاحوں کے لیے غیرمعمولی کشش رکھتا ہے۔ بستی کے اندر اور اس کے اطراف میں سبزیوں اور فصلوں کے لہلہاتے کھیت آنے والوں کو دعوت نظارہ دیتے ہیں۔ غیہ میں موجود 15 گھروں کے درمیان ایک مسجد، پانی کا ایک چشمہ اور کئی اہم تاریخی آثار موجود ہیں۔ یہ خاموش بستی 700 میٹر کی بلندی پر واقع ہے۔

غیہ کے جنوب میں واقع پہاڑ 1741 میٹر بلند ہے۔ وہاں پرمکانات پتھروں سے بنائے گئے جب کہ چھتیں لکڑی اور ریت سے تیار کردہ ہیں۔ کچی تعمیرات ہونے کے باوجود فن تعمیر اپنے جمالیاتی حسن کے جلوے بکھیرتا ہے۔ بستی میں زرعی آلات، چکی اور فوانیس بھی موجود ہیں۔

سنہ 1970ء سے یہ بستی الگ تھلگ ہے۔ اپنے پرامن جغرافیے کی بدولت یہ گائوں تخریب کاروں اورجرائم پیشہ افراد کی دست برد سے محفوظ ہے۔ اس قصبے کی تصاویر ایک مقامی فوٹو گرافر حسن حریصی نے اپنے کیمرے میں محفوظ کی ہیں۔

حریصی کا کہنا ہے کہ غیہ میں گھروں کا ایک مجموعہ ہے جو چٹانوں پر بنائے گئے ہیں۔ ان تک رسائی اتنی آسان نہیں۔ جہاں تک ان چٹانوں کا تعلق ہے تو وہ اپنے منفرد رنگ کی بہ دولت خاص کشش رکھتی ہیں۔ بستی کے اطراف میں موجود کھیت اس کی خوبصورتی کو چار چاند لگا دیتے ہیں۔ المجاردہ گورنری سے یہ جگہ 30 کلو میٹر کی مسافت پر ہے۔

گلہ بانی، مویشی پالنا اور زراعت یہاں کے لوگوں کے اہم پیشے اور آمدن کا ذریعہ ہیں۔ یہاں پر ایک مسجد ہے جس میں مقامی باشندے نماز ادا کرتے ہیں۔ غیہ کی خوبصورتی کا ایک پہلو اس کی آبشاریں ہیں۔ بلندی سے بہتے پانی کے جھرنے اس کی خوبصورتی میں اور بھی اضافہ کردیتے ہیں۔ سعودی عرب کے اس تاریخی اور خوبصورت سیاحتی مقام کی تصاویر کے حصول کے لیے عموما سیاح ڈرون طیاروں کا استعمال کرتے ہیں۔ آج سے 180 برس پیشتر یہاں آتش فشاں پھٹا تھا جس کی وجہ سے ان چٹانوں کا نام'تھوی' مشہور ہوگیا۔