.

برصغیر میں القاعدہ کیسے منظم اور متحرک ہو رہی ہے؟

جنوبی ایشیا میں القاعدہ کی سرگرمیوں پر مصری دارالافتاء کے لرزہ خیز انکشافات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

مصر کے دارالافتاء نے عالمی شدت پسند تنظیم 'القاعدہ' کی برصغیر بالخصوص پاکستان اور کشمیر میں سرگرمیوں پر حیران کن انکشافات کیے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق مصری دارالافتاء کی طرف سے جاری ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ القاعدہ تنظیم نے عالمی حالات میں تبدیلی کے ساتھ خود کو تبدیل کیا۔ جن علاقوں میں داعش کو شکست کا سامنا کرنا پڑا ان میں القاعدہ کو دوبارہ منظم کرنے کی کوششیں کی جا رہی ہیں۔ سنہ 2014ء کو القاعدہ نے اپنی پالیسی میں تبدیلی کی۔ عراق اور شام جیسے ممالک جہاں عالمی اتحاد کی سب سے زیادہ توجہ مرکوز تھی القاعدہ نے ان ملکوں میں خود کو محدود کیا۔

اسی طرح القاعدہ نے تنظیم کی صفوں میں اتحاد پیدا کرنے کی کوششیں جاری رکھیں۔ نئے نیٹ ورکس اور نئے علاقوں میں تنظیم کو فعال اور متحرک کرنے کی کوشش کی گئی۔ مغربی افریقا میں نئے گروپ تشکیل دیے گئے اور سنہ 2014ء سے پاکستان اور کشمیر میں موجود جہادی عناصر کے ساتھ رابط بڑھائے گئے۔

دارالافتاء کی رپورٹ میں کہا گیا ہے کہ شام، عراق اور لیبیا جیسے ملکوں میں 'داعش' کی شکست نے القاعدہ کو دوبارہ فعال ہونے کا موقع فراہم کیا۔ تنظیم نے ابلاغی پروپیگنڈے کی مدد سے جنگجو گروپوں کو اپنے ساتھ شامل کرنے کی پالیسی اپنائی۔ ابلاغی پروپیگنڈے، تنظیمی، تحریکی میدانوں اور محاذ جنگ میں نئی حکمت عملی اختیار کی گئی۔ پاکستان، افغانستان اور بھارت میں ایک نئی حکمت عملی وضع کی گئی۔

القاعدہ کا کشمیر سے تعلق؟

مصری دارالافتاء نے لکھا ہے کہ خطہ کشمیر القاعدہ اور اس کی وفادار تنظیموں کے لیے محفوظ جنت بن سکتا ہے۔ سنہ 2014ء کو القاعدہ کے سربراہ ایمن الظواہری نے 'القاعدہ برصغیر' کے نام سے نیا گروپ قائم کیا اور تنظیم کی قیادت ایک طالبان کمانڈر کو سونپی گئی۔

برصغیر میں القاعدہ کی شاخ قائم ہونے کے بعد پاکستان اور بنگلہ دیش میں خود کش حملوں کا وسیع سلسلہ شروع ہوگیا۔ سنہ 2015ء اور 2016ء میں خود کش حملے اپنے عروج پر رہے تاہم سنہ 2018ء میں اپنی کم ترین سطح پر آگئے۔

عسکریت پسندوں میں اتحاد کی کوشش

مصری دارالافتاء کے مطابق برصغیر میں القاعدہ کی مقامی شاخ میں شامل عسکریت پسندوں نے مرکزی تنظیم پربیعت کی مگر خطے میں یہ صرف القاعدہ ہی نہیں بلکہ کشمیر میں اس کے حامی کئی دوسرے جنگجو گروپ ماضی میں القاعدہ اور طالبان کے بہت قریب رہے ہیں۔ اس وقت القاعدہ ان تمام گروپوں کو ایک تنظیم کی شکل دینا چاہتی ہے۔ انصار غزہ ہند گروپ کے سربراہ عبدالحمید لحنری کی طرف سے بھی کشمیر کے عسکری گروپوں کو متحد ہونے پر زور دیا ہے۔ اپنے ایک صوتی پیغام میں لحنری نے ایک آزاد شوریٰ کےقیام پر زور دیا جو آپریشن کارروائیوں کے حوالے سے فیصلہ سازی کی مجاز ہو۔

دارالافتاء کے مطابق القاعدہ کی برصغیر میں سرگرمیوں میں اضافہ ایک ایسے وقت میں ہوا جب دوسری طرف بھارتی اور پاکستانی حکومتوں نے عسکریت پسندوں کے خلاف سخت آپریشن شروع کر رکھا ہے۔ اس آپریشن میں گذشتہ جون میں انصار غزہ ہند کے ترجمان کی ہلاکت اور لشکر طیبہ کے سربراہ سمیت تنظیم کے 12 ارکان کی منی لانڈرنگ، القاعدہ اور طالبان جیسے عسکریت پسندوں کو فنڈز کی فراہمی کے الزام میں گرفتار کرنا اہم پیش رفت ہے۔