.

قطر کے ملکیتی بنک کے دہشت گرد گروپوں کو مالی خدمات مہیا کرنے کی کہانی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

برطانیہ میں قائم قطر کا ملکیتی بنک الریان دہشت گرد تنظیموں اور اداروں کو مالی خدمات فراہم کر رہا ہے۔ اس بات کا انکشاف برطانوی روزنامے دا ٹائمز نے سوموار کو اپنی ایک تحقیقاتی رپورٹ میں کیا ہے۔ یہ ایک اسلامی بنک ہے اور شریعت کے مطابق اپنے صارفین کو مالیاتی خدمات مہیا کر رہا ہے۔

اس کے صارفین میں ایک ایسا خیراتی ادارہ بھی شامل ہے جس کو امریکا نے دہشت گرد تنظیم قرار دے رکھا ہے۔ اس کے علاوہ ایسے گروپ بھی شامل ہیں جو سخت گیر نظریے تبلیغ و تشہیر کر رہے ہیں، ان کے علاوہ ایک مسجد ہے جس کے حماس کے ایک لیڈر طویل عرصے تک ٹرسٹی رہے ہیں۔

الریان بنک ان متعدد صارفین کو خدمات مہیا کر رہا ہے جن کے سکیورٹی کریک ڈاؤن کے بعد دوسرے برطانوی بنکوں میں کھاتے بند یا منجمد ہوچکے تھے۔ یہ بنک برطانیہ میں کام کے لیے تمام قانونی تقاضوں کو پورا کر رہا ہے لیکن اس کے کم سے کم چار صارفین کے بنک کھاتے چار بنکوں ایچ ایس بی سی ، بارکلیز ،نیٹ ویسٹ اور لائیڈز ٹی ایس بی میں بند ہوچکے ہیں۔

الریان بنک کی برطانیہ کے شہروں برمنگھم، لندن، لیسٹر، مانچسٹر اور گلاسگو میں شاخیں ہیں۔ اس کے حصص داروں میں قطری ریاست کے ادارے شامل ہیں۔ اس کے ستر فی صد حصص مصرف الریان کیو ایس پی سی کے ملکیتی ہیں۔ یہ قطر کا دوسرا بڑا بنک ہے اور اس کے قطری ریاست سے قریبی تعلقات ہیں۔

حکومتِ قطر مصرف الریان کے 9.31فی صد حصص کی براہ راست مالک ہے۔ اس کے علاوہ وہ ریاست کی ملکیتی کمپنیوں قطر ہولڈنگ ایل ایل سی اور قطر سرمایہ کار اتھارٹی کے ذریعے باقی حصص کی مالک ہے۔ اسٹاک مارکیٹ کی تجزیہ کار ویب گاہ مارکیٹ اسکرینر کے مطابق یہ دونوں کمپنیاں بالترتیب 11.9 فی صد اور 4.2 فی صد حصص کی مالک ہیں۔

یہ کوئی پہلا موقع نہیں کہ قطر کے ملکیتی کسی بنک کو دہشت گردی کی مالی معاونت کی سرگرمیوں میں ملوّث پایا گیا ہے۔ اس سے پہلے دہشت گردی کی مالی معاونت کے الزام میں ماخوذ کیے گئے خلیفہ السبائی کو اقوام متحدہ نے قطر کے ملکیتی نیشنل بنک سے اپنے منجمد اکاؤنٹس میں سے ماہانہ دس ہزار ڈالرز کی رقم نکلوانے کی اجازت دی تھی۔ ان صاحب کا نام خود اقوام متحدہ کی دہشت گردوں کی بلیک لسٹ میں شامل تھا۔

متنازع صارفین

ٹائمز کی رپورٹ کے مطابق الریان کے صارفین میں دہشت گرد قرار دی گئی تنظیمیں، حماس سے وابستہ متنازع گروپ، پریشرگروپ ، خیراتی ادارے ، مساجد اور سیٹلائٹ ٹی وی چینلز کو رقوم مہیا کرنے والے افراد یا ادارے شامل ہیں۔

الریان کے کھاتے داروں میں ایک فلسطینی امدادی ادارہ انٹر پال ہے۔اس کو امریکا کے محکمہ خزانہ نے حماس کی مالی معاونت کے الزام مین دہشت گرد قرار دے رکھا ہے۔ برطانوی حکومت نے 2015ء میں انٹرپال کو حماس کا حصہ اور برطانیہ میں الاخوان المسلمون کا ڈھانچا قرار دیا تھا۔ برطانیہ کے دو بنکوں نیٹ ویسٹ نے 2007ء میں اور ٹی ایس بی نے 2008ء میں انٹر پال کو مالیاتی خدمات مہیا کرنے کا سلسلہ منقطع کر دیا تھا۔

قطر کے ایک اور خیراتی ادارے دا نقطر ٹرسٹ کا بھی الریان بنک میں اکاؤنٹ ہے۔ دا ٹائمز نے دعویٰ کیا ہے کہ دا نقطر ٹرسٹ نے دوحہ میں قائم قطر چیریٹی سے تین کروڑ ستر لاکھ پاؤنڈز سے زیادہ رقم وصول کی تھی۔ یہ ٹرسٹ برطانیہ کے شمالی شہر شیفلڈ میں قائم ایمان ٹرسٹ کا بھی شراکت دار ہے۔ اس موخر الذکر ٹرسٹ کے الاخوان المسلمون سے قریبی تعلقات بتائے جاتے ہیں۔ نقطر ٹرسٹ پر یورپ میں الاخوان المسلمون کے نظریے کی حامل مساجد کھولنے کا بھی الزام عاید کیا جاتا ہے۔

الریان بنک میں بھارت سے تعلق رکھنے والے معروف مبلغ ڈاکٹر ذاکر نائیک کے زیر قیادت اسلامی خیراتی ادارے اسلامک ریسرچ فاؤنڈیشن انٹرنیشنل کا بھی کھاتا ہے۔ برطانیہ نے 2010ء میں ڈاکٹر ذاکر نائیک پر ان کے متنازعہ بیانات کی وجہ سے پابندی عاید کردی تھی۔ انھوں نے نائن الیون کے حملوں کو امریکا کی داخلی کارروائی قرار دیا تھا۔

ان کے علاوہ بھی متعدد ایسی تنظیموں، تعلیمی اداروں اور مساجد کے الریان بنک میں کھاتے کھلے ہوئے ہیں جن کے برطانیہ کے دوسرے بنکوں میں اکاؤنٹس بند کردیے گئے تھے۔ ان میں فنس بری پارک کی مسجد بھی شامل ہے جہاں 1990ء کے عشرے میں سخت گیر مبلغ اورامام ابو حمزہ المصری تقریریں کیا کرتے تھے۔ اس وقت وہ امریکا میں دہشت گردی سے متعلق الزامات کی پاداش میں جیل کاٹ رہے ہیں۔ امریکا کی ایک عدالت نے انھیں مئی 2014ء میں دہشت گردی کے گیارہ الزامات میں قصور وار قرار دے کر عمر قید کی سزا سنائی تھی۔