.

'فیس بک' پر بحث نے 'آل اسد' کے درمیان اقتدار کی کشمکش طشت ازبام کر دی

رفعت الاسد اور ان کے بیٹوں کے درمیان سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشار الاسد کے چچا رفعت الاسد کے بیٹوں کے درمیان سماجی رابطوں کی ویب سائیٹ 'فیس بک' پر جاری جنگ نے 'آل الاسد' کے کئی اسکینڈل اور ان کی اقتدار کے حصول کے لیے جاری رسا کشی طشت ازبام کر دی۔

تفصیلات کے مطابق فرانس میں جلاوطنی کی زندگی گذارنے والے رفعت الاسد اور ان کے صاحب زادوں کے درمیان سوشل میڈیا پر گرما گرم بحث ومباحثہ جاری رہتا ہے۔ حال ہی میں رفعت الاسد کے بیٹے فراس الاسد نے اپنے والد اور بھائی درید پر حافظ الاسد کے دور کے بعض واقعات کی تفصیلات نشر کرنے پر سخت تنقید کی۔

فراس نے خاص طور پر سنہ 1980ء کے عشرے میں پیش آنے والے بعض واقعات کی تفصیلات طشت ازبام کرنے پر اپنے والد اور بھائی کو آڑے ہاتھوں لیا۔ ان واقعات میں شام میں اقتدار پر قبضے کی کوششوں کے واقعات بھی شامل ہیں۔ ان انکشافات کے دوران معلوم ہوا ہے کہ رفعت الاسد اپنے بھائی حافظ الاسد کا تختہ الٹ کراقتدار پرقبضہ کرنا چاہتے تھے۔

اسی طرح درید باسل الاسد کو اقتدار سے ہٹانا چاہتے تھے۔ اسد رجیم کے مطابق باسل الاسد ایک ٹریفک حادثے میں ہلاک ہوگئے تھے اپنے والد سے اقتدار اپنے ہاتھ میں لینے کے تیار تھے مگر مبینہ ٹریفک حادثہ ان کے لیے جان لیوا ثابت ہوا تھا۔ وہ حافظ الاسد سے اقتدار بشار الاسد کے بجائے اپنے ہاتھ میں لینا چاہتے تھے۔ فراس نے انکشاف کیا کہ درید اور ان کے والد نے اپنے مشن کو آگے بڑھانے کے لیے رشوت بھی دی تھی۔

فراس الاسد نے 'فیس بک' پر اپنے بھائی کو جوابی پیغام میں لکھا کہ ' یہ میرا گناہ نہیں کہ آپ کے والد جیسا کہ آپ چاہتے تھے کفر سوسہ میں اپنے چچا کوٹھکانے نہ لگا سکے۔ جب انہیں موقع ملا تو چچا اس وقت ٹینکوں کے ذریعے حفاظتی حصار میں تھے۔ آپ کے چچا اور بعض دوسرے مقربین بھی ان کے ہمراہ تھے۔ انہی میں باسل بھی تھا جس کے بارے میں میں نے کہا کہ اس کا اپنے والد کے ساتھ ہونا بہترین موقع تھا'۔

فراس الاسد نے مزید کہا کہ باسل الاسد نے اپنے چچا زاد درید کو گھڑ سواری کے اپنے ساتھ مقابلے میں شرکت سے روک دیا اور کہا تھا کہ لوگ 'اسد ہائوس' سے دو ہیروز کو برداشت نہیں کریں گے۔

دوسری جانب درید نے فیس بک پر فراس الاسد کے بیان کا جواب دیتے ہوئے لکھا کہ 'فراس' کی تمام باتیں جھوٹ کا پلندہ ہیں۔ اس نے حسب معمول اپنے والد رفعت کا دفاع کیا ہے۔

درید نے لکھا کہ ان کے والد رفعت کی دمشق کے ایک اسپتال میں سرجری کی گئی تھی اور ان کے جسم سے بم کا شیل نکالا گیا۔ اس واقعے نے ان کی زندگی پر طویل اثرات مرتب کیے۔