فلسطینی باشندے بیت المقدس میں اردن کے پاسپورٹ کی تجدید کرا سکیں گے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

اردن میں عدلیہ کے ایک اہم ذریعے کا کہنا ہے کہ مقبوضہ مشرقی بیت المقدس سے تعلق رکھنے والے افراد کو اس بات کی اجازت دے دی جائے گی کہ وہ بیت المقدس میں ہی اپنے اردن کے پاسپورٹ کی تجدید کرا لیں۔ اس اقدام کا مقصد مذکورہ افراد کے مسائل کو کم کرنا ہے۔

اردن کے قائم مقام چیف جسٹس شیخ واصف البکری نے پیر کے روز مشرقی بیت المقدس میں ایک پریس کانفرنس میں بتایا کہ مذکورہ اقدام کا مقصد ان افراد کو گرمی کے موسم میں پلوں پر بھیڑ کی زحمت سے بچانا ہے۔

البکری کے مطابق اردن کے فرماں روا شاہ عبداللہ دوم کی ہدایت پر مؤرخہ 6 اگست سے اردنی پاسپورٹ کی فیس 200 دینار (تقریبا 300 ڈالر) سے کم کر کے 50 دینار (تقریبا 70 ڈالر) کر دی گئی ہے۔ اسی طرح 16 سال سے کم عمر افراد کے لیے پاسپورٹ جاری کرنے کی بھی اجازت دے دی گئی ہے۔

اردن نے اس سلسلے میں گذشتہ برس ستمبر میں فیصلے کر لیے تھے تاہم لوجسٹک انتظامات اور ان خدمات کو پیش کرنے کے حوالے سے خصوصی سمجھوتوں کے بعد اب انہیں پہلی مرتبہ نافذ کیا جا رہا ہے۔

اوسلو معاہدے کے تحت بیت المقدس کے کسی بھی فلسطینی کو فلسطینی پاسپورٹ حاصل کرنے کا حق نہیں ہے۔ اس کی وجہ یہ ہے کہ بیت المقدس کا معاملہ حتمی حل کے حوالے سے مذاکرات کا محتاج ہے۔

مشرقی بیت المقدس کے لوگ عارضی طور پر اردن کے پاسپورٹ کے حامل ہیں جو انہیں دنیا بھر میں سفر کرنے کا موقع فراہم کرتے ہیں۔ تاہم ان پر اردنی شہریوں والے قومی شناختی نمبر موجود نہیں ہوتے لہذا ان افراد کو اردنی شہریوں کے برعکس اکثر عرب ممالک میں داخلے کے واسطے ویزے کی ضرورت ہوتی ہے۔

سال 1948 کی جنگ کے بعد 1950 میں مغربی کنارا بیت المقدس شہر سمیت اردن میں شامل ہو گیا اور یہ مملکت اردن کا حصہ رہا۔ بعد ازاں 1988 میں فلسطینی رہ نما یاسر عرفات نے فلسطینی ریاست کا اعلان کر دیا۔ اس کے بعد اردن کے مرحوم صدر شاہ حسین بن عبداللہ نے انتظامی اور قانونی طور پر مغربی کنارے کو اردن سے علاحدہ کر دیا۔

اردن کے ساتھ 1994 میں امن معاہدہ دستخط کرنے والا اسرائیل بیت المقدس شہر میں اسلامی اور مسیحی مقامات مقدسہ پر اردن کی نگرانی تسلیم کرتا ہے۔

اسرائیل نے 1967 میں مشرقی بیت المقدس پر قبضہ کر لیا تھا۔ بعد ازاں 1980 میں اسرائیل نے پورے بیت المقدس کو اپنا "دائمی دارالحکومت" قرار دیا۔ عالمی برادری نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔ دوسری جانب فلسطینیوں کی یہ خواہش ہے کہ مشرقی بیت المقدس اُن کی مطلوبہ ریاست کا دارالحکومت ہو۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں