.

ایران نے حماس کی رگ وپے میں مالی رقوم کا خون چڑھا دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران نے فلسطینی تنظیم حماس کے لیے ماہانہ ادائیگی میں اضافے پر آمادگی کا اظہار کیا ہے اور اس کے مقابل حماس تنظیم تہران کو اسرائیل کی میزائل صلاحیتوں کے بارے میں معلومات فراہم کرے گی۔ یہ بات عربی روزنامے الشرق الاوسط نے ایک اسرائیلی رپورٹ کے حوالے سے بتائی۔

اسرائیل کے چینل 12 کا کہنا ہے کہ تہران میں کچھ عرصہ قبل حماس کے 9 عہدے داران کے ساتھ ملاقات میں ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای نے تہران کی جانب سے حماس کے لیے ماہانہ مالی سپورٹ کو بڑھا کر 3 کروڑ ڈالر کرنے پر اپنی موافقت کا اظہار کیا۔

چینل کی رپورٹ کے مطابق اس ملاقات کے دوران تہران نے حماس کے مطالبہ کیا کہ وہ اسرائیل کے میزائل گوداموں کے ٹھکانوں کے حوالے سے ایران کو انٹیلی معلومات فراہم کرے۔ حماس کے ارکان کے مطابق وہ اس مطالبے کو غزہ میں تنظیم کی قیادت تک پہنچا دیں گے۔ اس موقع پر حماس نے یہ مطالبہ بھی کیا کہ ایران ،،، شام میں بشار الاسد کی حکومت اور حماس کے درمیان ثالثی کا کردار ادا کرے۔ شام کے بحران کے دوران حماس اور بشار کی حکومت کے درمیان تعلقات منقطع ہو گئے تھے۔

ایران ایک طویل عرصے سے حماس کو مالی طور پر سپورٹ کر رہا ہے تاہم شام کے ساتھ تعلقات کے حوالے سے حالیہ برسوں میں اس سپورٹ میں کافی کمی آئی ہے۔

کچھ عرصہ قبل ایران نے حماس کو پھر سے سالانہ 7 کروڈ ڈالر (58.3 لاکھ ڈالر ماہانہ) کی ادائیگی شروع کر دی ہے۔ شام میں انقلابی تحریک کے آغاز پر حماس نے بشار الاسد کے خلاف اس تحریک کو بھرپور حمایت کی جس پر بشار الاسد، ایران اور حزب اللہ اس فلسطینی تنظیم پر چراغ پا ہو گئے۔ بعد ازاں حماس تنظیم نے اپنا سیاسی بیورو دمشق سے قطر منتقل کر لیا اور ایران نے اس کی مالی سپورٹ کا سلسلہ منقطع کر دیا۔

گذشتہ چند برسوں کے دوران حماس اور ایران نے تعلقات کے نئے پُل تعمیر کرنا شروع کر دیے۔ تہران نے حماس کی محدود سپورٹ کا پھر سے آغاز کر دیا یہاں تک کہ حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کے زیر قیادت تنظیم کے ایک وفد نے دو ہفتے قبل تہران کا دورہ کیا۔

اس سے قبل عربی روزنامے الشرق الاوسط نے انکشاف کیا تھا کہ حماس کے وفد نے ایرانی پاسداران انقلاب کی قیادت سے خفیہ ملاقات کی تا کہ حماس کی عسکری اور مالی قدرت پر بات چیت ہو سکے۔ ملاقات میں مشترکہ رابطہ کاری کے ایک طریقہ کار کو زیر بحث لایا گیا۔ اس مقصد کے لیے حماس کے ایک رہ نما کا تقرر کیا جائے گا جو براہ راست اور فوری رابطے کا ذمے دار ہو۔

عربی روزنامے کے مطابق پاسداران انقلاب نے پھر سے حماس کے عسکری ونگ "القسّام" بریگیڈ کے ارکان کی میزبانی پر تیار ہونے کا اشارہ دیا تا کہ تنظیم کو جدید عسکری تجربات سے رشناس کرایا جا سکے۔ ساتھ ہی یہ بھی باور کرایا گیا ہے کہ حماس اور دیگر فلسطینی گروپوں کے لیے مالی سپورٹ اپنی پرانی پوزیشن پر آ جائے گی بلکہ اس میں اضافہ کر دیا جائے گا۔ علاوہ ازیں یہ کہ ایران پر اقتصادی دباؤ اسے فلسطینی مزاحمت کی سپورٹ سے نہیں روکے گا۔ یہ بات طے پائی تھی کہ حماس کے وفد کے ہمراہ "القسّام" بریگیڈز کی قیادت بھی ہو گی اور حماس کے وفد میں تنظیم کے سیاسی بیورو کے سربراہ اسماعیل ہنیہ بھی شریک ہوں گے۔ تاہم بعض پیچیدگیاں اس ترتیب کے آڑے آ گئیں۔

حماس کے سیاسی بیورو کے نائب سربراہ صالح العاروری کے منگل کے روز دیے گئے بیان نے تنظیم اور ایران کے درمیان تعلقات کو بہترین صورت میں ظاہر کر دیا ہے۔ العاروری نے اپنے بیان میں کہا کہ ان کی تنظیم "کسی بھی امریکی یا صہیونی حملے کے خلاف ایران کے دفاع کے لیے فرنٹ لائن میں کھڑی ہے ... صہیونی وجود اور متکبرین کو پچھاڑنے کی راہ میں ہم اور اسلامی جمہوریہ (ایران) ایک ہی راستے پر ہیں"۔