.

جنگ سے ہمیں کوئی تشویش نہیں : ایرانی پاسداران انقلاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی پاسداران انقلاب کے سربراہ حسین سلامی نے ایران اور امریکا کے درمیان عسکری مقابلے کو خارج از امکان قرار دیا ہے۔

فارس نیوز ایجنسی کے مطابق منگل کے روز اپنے خطاب میں سلامی کا کہنا تھا کہ "ہمیں جنگ کے حوالے سے تشویش نہیں ہے کیوں کہ ہمارے پاس طاقت اور مطلوبہ تیاری ہے جب کہ دشمن کسی حملے اور عسکری جنگ کا ارادہ نہیں رکھتا"۔

سلامی کے بیان میں "عسکری سینہ زوری" کا پہلو نظر آ رہا ہے کیوں کہ جنگ کو خارج از امکان قرار دینے کے باوجود ایرانی کمانڈر نے تیاری اور طاقت کی بات کی۔ یہ امر ایران کے بہت سے بیانات کے متضاد ہے جن میں "جنگ کے عفریت" سے خبردار کیا گیا ہے۔

سلامی نے باور کرایا کہ ایران اس وقت اقتصادی جنگ کی حالت میں اور یہ صورت حال ایران عراق جنگ (1980-1988) کے وقت کے مواقف کی متقاضی ہے۔

ایرانی حکومت اور سخت گیر حلقوں کے مواقف میں مطابقت کے سائے میں ایرانی پاسداران انقلاب ملک کی خارجہ پالیسی کو کنٹرول کر رہی ہے۔ اس کے نتیجے میں ایرانی وزیر خارجہ محمد جواد ظریف کو امریکی پابندیوں کی فہرست میں ڈال دیا گیا ہے۔

ایرانی صدر حسن روحانی نے منگل کے روز اس موقف کو دہرایا کہ اُن کا ملک واشنگٹن کے ساتھ مذاکرات کے لیے تیار ہے تاہم اس کے لیے شرط ہے کہ امریکا تہران پر سے تمام پابندیاں اٹھا لے۔

اس سے پہلے روحانی کی یہ شرط ہوا کرتی تھی کہ مذاکرات سے پیشتر امریکا کو جوہری معاہدے میں واپس آنا ہو گا۔ تاہم اب ایرانی صدر کا کہنا ہے کہ امریکا جوہری معاہدے میں واپس آئے یا نہ آئے ،،، بات چیت کے لیے اسے ہر صورت پابندیاں اٹھانا ہوں گی۔

امریکی صدر اور ان کی انتظامیہ کے ارکان کئی بار پیشگی شرائط کے بغیر ایران کے ساتھ براہ راست مذاکرات شروع کرنے پر زور دے چکے ہیں مگر ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای امریکا کی شدید پابندیوں کے باوجود مذاکرات کو مسترد کرتے رہے ہیں۔