شامی حکومت نے ترکی اور امریکا کے درمیان معاہدے کو یکسر مسترد کر دیا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

شامی حکومت کی وزارت خارجہ نے "سیف زون" کے قیام کے حوالے سے امریکا اور ترکی کے درمیان معاہدے کو "قطعی طور پر" مسترد کر دیا ہے۔ وزارت کا کہنا ہے کہ یہ معاہدہ شامی اراضی کی خود مختاری اور وحدت پر حملہ ... اور بین الاقوامی قانون اور اقوام متحدہ کے منشور کے بنیادی اصولوں کی کھلی خلاف ورزی ہے۔

شامی وزارت خارجہ کے مطابق مذکورہ معاہدے نے شام کے خلاف جارحیت میں امریکا ترکی شراکت داری کو واضح طور پر بے نقاب کر دیا ہے۔ اس کا مقصد قابض اسرائیلی وجود کے غاصبانہ مفاد اور ترکی کی توسیع پسندی کی حرص کو پورا کرنا ہے۔

شامی وزارت خارجہ نے عالمی برادری اور اقوام متحدہ سے اپیل کی ہے کہ وہ ترکی اور امریکا کے درمیان اس معاہدے کی بھرپور مذمت کریں جو خطے اور دنیا کے لیے خطرناک جارحیت اور امن و استحکام کے لیے سنگین خطرے کے مترادف ہے .. یہ شام میں بحران سے نکلنے کی تمام تر کوششوں کو برباد کر دے گا۔

انقرہ اور واشنگٹن کے درمیان طے پانے والے معاہدے کے مطابق ترکی میں جلد از جلد ایک مشترکہ آپریشن سینٹر قائم کیا جانا ہے تا کہ شمالی شام میں سیف زون کے قیام کے سلسلے میں رابطہ کاری اور انتظامی امور انجام دیے جا سکیں۔

یہ موقف 5 سے 7 اگست کے درمیان انقرہ میں وزارت دفاع کے ہیڈ کوارٹر میں امریکی عسکری ذمے داران کے ساتھ ہونے والی بات چیت کے اختتام پر سامنے آیا۔

ترکی کی وزارت دفاع نے ایک بیان میں کہا کہ منصوبے کی رکاوٹوں کو ختم کرنے کے لیے پہلے مرحلے میں کیے جانے والے اقدامات پر عمل درامد کے حوالے سے اتفاق رائے ہو گیا ہے۔

وزارت نے باور کرایا ہے کہ امریکی فریق کے ساتھ اس بات پر اتفاق ہو گیا ہے کہ سیف زون کو ایک پر امن گزر گاہ بنایا جائے گا اور شامیوں کی اپنے وطن واپسی کو یقینی بنانے کے لیے تمام تر اضافی اقدامات کیے جائیں گے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں