.

نظام کے سقوط کے لیے دبائو میں 10 گنا اضافہ ہوچکا ہے: ایرانی عہدیدار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایرانی عہدیداروں نے نظام حکومت کا تختہ الٹنے کے لیے اندرونی اور بیرونی دبائو کا اعتراف کیا ہے۔

ایرانی قومی سلامتی کمیٹی کے وائس چیئرمین ایوب سلیمانی نے کہا ہے کہ ایرانی رجیم کے سقوط کے لیے دبائو میں 10 گنا اضافہ ہوچکا ہے۔

ایران کی طلباء نیوز ایجنسی 'ایسنا' کے مطابق ایوب سلیمانی نے ایک اجلاس کے دوران کہا کہ ایرانی رجیم کا تختہ الٹنے کی دو بار ناکام کوشش کی گئی۔ سنہ 2009ء میں دشمن نے ایران کے اندر فسادات کے ذریعے نظام کی تبدیلی کی سازش کی مگر اسے ناکام بنا دیا گیا۔ دوسری سازش سنہ 2018ء میں عوامی احتجاجی تحریک کی آڑ میں کی گئی مگر اسے بھی ناکام بنا دیا گیا۔

ایرانی عہدیدار نے مزید کہا کہ امریکا میں ڈونلڈ ٹرمپ کے صدر بننے کے بعد ایرانی طاقت کا محاصرہ کیا گیا اور تہران کے جوہری پروگرام پر نئے معاہدے مسلط کرنے کی کوشش کی گئی۔ امریکا اس لیے معاہدے سے الگ ہوا تاکہ ٹرمپ اپنی مرضی کا سمجھوتہ کرانے کے لیے تہران پر دبائو ڈال سکیں۔

ایوب سلیمانی نے کہا کہ ایران کے دوشمنوں نے گذشتہ برس نظام کے سقوط کی سازش تیار کی تھی مگر ایران کے فکری اداروں نے دشمن کی چالیں ناکام بنا دیں۔ دشمن ایرانی عوام کو نظام کے خلاف اکسا کر اپنے مذموم مقاصد حاصل کرنا چاہتا ہے مگر مایوسی اور ناکامی اس کا مقدر ہوگی۔

گذشتہ ہفتے ایرانی پارلیمنٹ میں صدر حسن روحانی کے مشیر حسین علی امیری نے کہا تھا کہ ماہرین کا خیال ہے کہ ایران کی معاشی صورت حال روز بہ روز بدتر ہوتی چلی جا رہی ہے۔

ایرانی وزیر داخلہ عبدالرضا رحمانی فضلی نے گذشتہ ہفتے کہا کہ ایران میں عوامی احتجاج اور مزدوروں کی ہڑتالیں جاری ہیں۔ دسمبر 2017ء اور سنہ 2018ء کے اوائل میں ہونے والے احتجاج جیسی صورت حال دوبارہ پیدا ہو سکتی ہے۔