یمنی عوام کے مفادات کے ساتھ کوئی کھلواڑ قبول نہیں کریں گے: عرب اتحاد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ اتحاد کی مشترکہ کمان تشویش کے ساتھ عبوری دارالحکومت عدن میں صورت حال کی پیش رفت کا جائزہ لے رہی ہے۔

المالکی کے مطابق عرب اتحاد کی مشترکہ فورسز کی کمان اس خطرناک پیش رفت کو یکسر مسترد کرتی ہے اور وہ کسی طور بھی یمنی عوام کے مفادات کے ساتھ کھلواڑ برداشت نہیں کرے گی۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ تمام فریق ہوش کے ناخن لیں ، قومی مصلحت اور مفاد کو مقدم رکھیں اور یمن کی آئینی حکومت کے ساتھ مل کر کام کریں تا کہ ان استثنائی صورت حال سے باہر آ سکیں۔ المالکی کا کہنا تھا کہ ایسے وقت میں حوثی ملیشیا اور دہشت گرد تنظیموں مثلا القاعدہ اور داعش کے گھات لگائے عناصر کو کوئی موقع نہیں دیا جانا چاہیے کہ وہ یمنی قوم کے اندر فتنے اور تفرقے کی آگ بھڑکائیں۔

ادھر "جنوبی تحریک کے عناصر" نے جنوب کے جنوب کے ساتھ تنازع سے خبردار کیا ہے جو مرکزی دشمن ایران اور اس کی دست راس حوثی ملیشیا کے ہی کام آئے گا۔

جنوبی تحریک کے عناصر نے آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے عرب اتحاد کے ممالک سے مطالبہ کیا ہے کہ وہ ان خطرات کو ختم کرنے کے واسطے کام کریں جن کا مقصد آئینی حکومت کی سپورٹ کی کوششوں اور یمنی قوم میں از سر نو امید کی واپسی کو سبوتاژ کرنا ہے۔

جنوبی تحریک نے اپنے ایک بیان میں باور کرایا ہے کہ عدن میں حالیہ شدید تنازع عرب اتحاد کو کمزور کر رہا ہے۔ بیان کے مطابق یہ صرف بیرونی ایجنڈوں کے کام آ رہا ہے جن کا مقصد وطن اور ہم وطنوں کو نشانہ بنانا ہے۔

دوسری جانب یمنی سرکاری خبر رساں ایجنسی نے بتایا ہے کہ عالمی سلامتی کونسل میں مستقل رکنیت کے حامل پانچ بڑے ممالک نے ایک بار پھر باور کرایا ہے کہ وہ تمام یمنیوں کے لیے ایک محفوظ اور مستحکم مستقبل ، اقوام متحدہ کی قرار دادوں کے مطابق ایک جامع سیاسی عمل، خلیجی منصوبے اور اس پر عمل درامد کے طریقہ کار اور قومی مکالمہ کانفرنس کے اعلامیے کے پابند ہیں۔

یمن کے لیے چین، فرانس، روس، امریکا اور برطانیہ کے سفارتی نمائندوں نے عبوری دارالحکومت عدن میں تشدد کی حالیہ لہر پر اپنی گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ یہ موقف امریکی سفارت خانے کی ویب سائٹ پر جاری ایک بیان میں سامنے آیا۔

مذکورہ پانچوں ممالک کے نمائندوں نے تمام یمنیوں پر زور دیا ہے کہ وہ جذبات کو قابو میں رکھیں، تشدد کی تمام کارروائیوں کو فوری طور پر روک دیں اور ایک تعمیری بات چیت میں شامل ہوں تا کہ اپنے اختلافات کو پُر امن طور سے حل کر سکیں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں