.

ٹرمپ ایرانی سپریم لیڈر خامنہ ای کو دنیا کے سامنے کمزور کرنا چاہتے ہیں : ایرانی تجزیہ کار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ اعلانیہ طور پر ایرانی نظام کو مذاکرات کی میز پر لانا چاہتے ہیں۔ اس اقدام کا مقصد ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کو دنیا کے سامنے کمزور کرنا ہے۔ اسی وجہ سے ٹرمپ کسی بھی خفیہ بات چیت کو مسترد کر رہے ہیں۔ یہ بات ایرانی امریکی سیاسی تجزیہ کار ڈاکٹر رضا پرچی زادہ نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو دیے گئے ایک خصوصی انٹرویو میں کہی۔

آبنائے ہرمز میں جہاز رانی کے تحفظ اور سمندری سیکورٹی کے حوالے سے بین الاقوامی اتحاد کے کردار پر روشنی ڈالتے ہوئے پرچی زادہ نے کہا کہ .. ایرانی نظام کے تمام کارڈز استعمال ہو چکے ہیں اور وہ دنیا کے اکثر ممالک کے لیے دشمن بن چکا ہے۔ امریکا اور برطانیہ اس اتحاد کو تشکیل دینے کا عمل آگے بڑھا رہے ہیں تاہم بقیہ ممالک اُن نتائج کے منتظر ہیں جو اس اقدام کے ذریعے سامنے آئیں گے۔ میرے نزدیک کئی ممالک اس اتحاد میں شامل ہونے پر مجبور ہو جائیں گے۔ فرانس ، جرمنی اور یورپ کے دیگر ممالک کے علاوہ مشرق وسطی تک کے ممالک آخر کار اس اتحاد کا حصہ بن جائیں گے۔ ایرانی نظام کے حلیف سمجھے جانے والے روس اور چین اس مقابلے میں ملوث نہ ہونے کی پالیسی اپنائیں گے۔ میرے نزدیک بین الاقوامی سطح پر تمام تر پیش رفت ایرانی نظام کے مقابلے کی سمت گامزن ہے۔

تجزیہ کار پرچی زادہ نے کہا کہ میری رائے میں مذکورہ اتحاد درحقیقت ایرانی نظام کے خلاف ایک جامع عسکری اتحاد کی تشکیل کی جانب پہلا قدم ہے۔ ٹرمپ اور موجودہ امریکی حکومت گذشتہ دو یا تین دہائیوں کے دوران مشرق وسطی کے ممالک میں عسکری مداخلت کے تجربات کا بغور جائزہ لے رہی ہے۔ یہ نہیں چاہتے کہ امریکا کو اس جنگ کے ہراول دستے میں رکھا جائے تا کہ مستقبل میں امریکا پر یہ الزام نہ آئے کہ وہ "سامراجی جنگوں" میں پہل کرنے والا ہے۔ میرے خیال میں جہاز رانی کے تحفط کے لیے اس اتحاد کو تشکیل دینے کے تمام اقدامات کا نتیجہ آخر کار ایرانی نظام کے خلاف فوجی کارروائی کرنے والے اتحاد کی شکل میں سامنے آئے گا۔ ایرانی نظام ہی اپنی دشمنانہ کارروائیوں کے ذریعے اس جنگ کی ابتدا کرنے والا ہو گا۔

ڈاکٹر رضا پرچی زادہ کے مطابق ٹرمپ ک منصوبہ واضح ہے۔ وہ اقتدار میں آنے کے بعد سے ایرانی نظام کی تبدیلی کے لیے پُر عزم ہیں۔ تاہم ضروری نہیں کہ نظام کی تبدیلی کسی فوجی کارروائی کے ذریعے عمل میں آئے بلکہ عالمی سطح پر قابل قبول دباؤ اور پابندیوں کے نتیجے میں ایرانی نظام اندر سے ٹوٹ پھوٹ کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس طرح نظام کے سقوط کے لیے ایرانی عوام کے سامنے راستہ آسان ہو جائے گا۔ ٹرمپ اُن 12 شرائط پر اعلانیہ طور سے مذاکرات کرنا چاہتے ہیں جو امریکی وزیر خارجہ پومپیو نے پیش کی تھیں۔ میں نہیں سمجھتا کہ ایران کے اندر تبدیلی لانے کے حوالے سے ٹرمپ کی پالیسی بدل چکی ہے۔ اسی وجہ سے ایرانی نظام اعلانیہ مذاکرات نہیں چاہتا۔ آخر کار ٹرمپ یہ چاہتے ہیں کہ وہ ولی فقیہ خامنہ ای کو کمزور کر دیں اس طرح کہ خامنہ ای کے مذاکرات کار میز پر بیٹھیں اور دنیا کے سامنے یہ اعلان کریں کہ انہیں 12 مطالبات پر عمل درامد منظور ہے۔ اس کا مطلب جنگ کے بغیر ایرانی نظام کا سقوط ہو گا۔ اگر ایسا نہ ہوا تو پھر یقینا ہم ایک فوجی کارروائی دیکھیں گے۔

ایرانی تجزیہ کار کا کہنا تھا کہ یقینا ایرانی نظام اس بات کے لیے سنجیدگی سے کام کر رہا ہے کہ دنیا کی نظروں اور ایرانی عوام کے سامنے کوئی متبادل فریق آئے۔ لہذا امریکی انتظامیہ اور یورپی حکومتوں کو چاہیے کہ وہ اس متبادل فریق کو تشکیل دینے کے سلسلے میں ایرانی اپوزیشن کو بھرپور طریقے سے سپورٹ کرے۔ اسی طرح ان ممالک کو ایرانی نظام کی حامی لابیوں اور جماعتوں کو بھی اپنے ہاں سے نکال دینا چاہیے تا کہ حقیقی اپوزیشن قوتوں اور جمہوری گروپوں کے لیے میدان صاف ہو سکے۔ یہ بات درست ہے کہ ایرانی اپوزیشن کے چھوٹے بڑے گروپ متحد نہیں ہیں مگر یہ سب ایرانی نظام کا سقوط چاہتے ہیں۔

رضا پرچی زادہ کے مطابق اگر نظام کے سقوط کے لیے ایرانی عوام کو عسکری مدد کی ضرورت ہو تو امریکی حکومت کو چاہیے کہ وہ اسے یقینی بنائے۔ اس کے علاوہ امریکا میں ایرانی نظام کے زیر انتظام پریشر گروپوں کے دفاتر کی بندش عمل میں آنی چاہیے۔ ایرانی نظام کے قائدین کے گھر والوں میں سے کئی لوگ امریکا میں موجود ہیں اور ایرانی نظام کے مفاد میں سرگرم ہیں، ان کو نکال دیا جانا چاہیے۔ اسی طرح امریکی حکومت کے فارسی زبان میں نشر ہونے والے ذرائع ابلاغ اور چینلوں پر حقیقی اپوزیشن کے عناصر کو سامنے آنے کا موقع ملنا چاہیے جب کہ اس وقت ان پر ایرانی نظام کے حامیوں یا پریشر گروپوں کی مقرب شخصیات کا کنٹرول ہے۔ ایرانی نظام کی ہمنوا لابیوں اور ایجنٹوں کی جانب سے مغرب بالخصوص یورپ اور امریکا میں جمہوری ذرائع ابلاغ کا فائدہ اٹھا کر ایرانی نظام کے جھوٹ کو فروغ دیا جا رہا ہے۔ یہ لوگ میڈیا کے پلیٹ فارم سے ہمیشہ ایرانی نظام کے حریفوں کو تنقید کا نشانہ بناتے ہیں۔ لہذا ایرانی وزیر خارجہ جواد ظریف کی سرزنش اہم ترین ہے کیوں کہ اس طرح مغرب میں پریشر گروپ اور ہمنوا لابیاں براہ راست سپورٹ سے محروم ہو جائیں گی۔