شام میں موت سے بچ نکلنے والی دوشیزہ ترک فوج کے ہاتھوں قتل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

ترکی کی فوج نے شام کے علاقے دیر الزور سے جان بچا کر آنے والی ایک شامی دوشیزہ کو شمال مغربی شہر ادلب میں سرحد عبور کرنے کی کوشش کے دوران گولیاں مار کر قتل کر دیا۔

'دیر الزور 24' نیوز نیٹ ورک کی رپورٹ کے مطابق ھدیل احمد الحسین الدخیل دیر الزور کے نواحی علاقے البوعمر سے جان بچا کر ترک داخل ہونا چاہتی تھی مگر ترک بارڈر سیکیورٹی فورسز نے گولی مار کر اسے قتل کر دیا، تاہم اس کی مزید تفصیل سامنے نہیں آئی۔

خیال رہے کہ ایک ماہ سے بھی کم عرصے میں یہ اپنی نوعیت کا دوسرا واقعہ ہے۔ تین اگست کو ترک بارڈر سیکیورٹی فورسز نے دمشق کی ایک خاتون کو سرحد پر گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

ترکی اور شام کی سرحد سرحد پار سے داخل ہونے والوں کے لیے قتل گاہ بن چکی ہے۔ جب ترک حکام شامی شہریوں کو خاندان کے ساتھ ترکی داخل ہونے سے روکتے ہیں تو شامی شہری انفرادی طور پر بھاگ کر ترکی پہنچنے کی کوشش کرتے ہیں۔

ترکی نے پچھلے چار سال سے شام سے متصل سرحد پر نگرانی بڑھا دی ہے۔ انسانی حقوق کی عالمی تنظیموں ہیومن رائٹس واچ اور ایمنسٹی کی طرف سے جاری کردہ رپورٹس میں بتایا گیا ہے کہ شام سے بھاگ کر ترکی آنے والے پناہ گزینوں کو سرحد پر حملوں کا سامنا رہتا ہے اور اب تک سیکڑوں افراد لقمہ اجل بن چکے ہیں۔

گذشتہ سوموار کو شامی انسانی حقوق کارکنوں نے سوشل میڈیا پر ایک نوجوان ھشام مصطفیٰ کی تصویر پوسٹ کی جو حلب سے فرار ہو کر ترکی داخل ہونا چاہتا تھا مگر ترک حکام نے اسے گولیاں مار کر قتل کر دیا تھا۔

مصطفیٰ اپنی بیوی اور تین بچوں کو بے سہارا چھوڑ کر استنبول سے واپس جانے جانے پر مجبور کیا گیا اور اس نے دوبارہ ترکی میں داخل ہونے کی کوشش کی جس پر اسے قتل کر دیا گیا۔

مقبول خبریں اہم خبریں