.

بشارالاسد کی معافی کے بعد ان کے مشہور سماجی کارکن کی جیل سے رہائی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کے صدر بشارالاسد کی طرف سے معافی دینے کے بعد ان کے ایک مشہور حامی سماجی کارکن وسام الطیر کو 9 ماہ تک قید میں رکھنے کے بعد رہا کردیا گیا ہے۔ وسام الطیر کو کئی ماہ قبل حراست میں لیا گیا تھا مگراس کی گرفتاری کی وجہ سامنے نہیں آسکی۔ وسام الطیر کو شامی حکومت کا سرگرم حامی سماجی کارکن شمار کیا جاتا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق شامی فوج میں رہنے کے ساتھ وسام الطیر انٹرنیٹ پرمشہور سماجی کارکن رہا ہے۔ اسے دسمبر 2018ء کو بشارالاسد کے ماتحت سیکیورٹی اداروں نے حراست میں لیا تھا تاہم اس کی گرفتاری کی وجہ معلوم نہیں ہوسکی۔

بعض ذرائع کا کہنا ہے کہ وسام الطیر نے حکومت کی بری کارکردگی کو عوام کے سامنے پیش کرنا شروع کردیا تھا۔ اپوزیشن کی جانب سے وسام الطیر کو بشارالاسد کا 'ڈھولچی' قرار دیا جاتا تھا۔ 14 دسمبرکواس نے سوشل میڈیا پر"أصبحنا وأصبح الملك لله" کے الفاظ لکھے جس کےبعد اسے پراسرار طورپر حراست میں لے لیا گیا تھا۔

وسام الطیر نےاپنی گرفتاری سے چند ہفتے قبل ویب سائٹ کی ادارت سے استعفیٰ دے دیا تھا۔ استعفے کی وجہ یہ بتائی گئی تھی کہ بشارالاسد دمشق کے نواحی علاقے مشرقی الغوطہ کے دورے کےدوران اسے اپنے ساتھ نہیں لے گئے۔ اپنے استعفے کے ساتھ اس نے سوشل میڈیا پرلکھا تھا کہ 'وسام الطیر کوئی ایجنٹ یا خائن نہیں کہ اس کی نگرانی کی جائے'۔

وسام الطیر جنوبی شہر اللاذقیہ کے پہاڑی علاقے سے تعلق رکھتے ہیں۔ وہ سوشل میڈیا پر سرگرم ہونے کے ساتھ فوج میں بھی خدمات انجام دے چکا ہے۔