.

لبنان کی دو کمپنیوں پر ایرانی تیل خفیہ طور شام منتقل کرنے کا الزام

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

لبنانی تجارتی ریکارڈز سے یہ بات سامنے آئی ہے کہ دو لبنانی کمپنیاں خفیہ طور پر اپنے تیل کے آئل ٹینکروں کے ذریعے ایران کا خام تیل شام پہنچا رہی ہیں۔ یہ انکشاف عربی روزنامے الشرق الاوسط نے اپنی ایک رپورٹ میں TankerTrackers.com ویب سائٹ کی جانب سے جاری معلومات کے حوالے سے کیا۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ "سینڈرو اور یاسمین یہ دونوں تیل بردار جہاز ایرانی خام تیل شام کے ساحل پر منتقل کر رہے ہیں"۔ ایران اس انداز کو امریکی پابندیوں سے بچنے کے لیے استعمال کرتا ہے۔

الشرق الاوسط اخبار کو اس معلومات کی تصدیق یا تردید کے سلسلے میں مذکورہ دنوں کمپنیوں کی جانب سے کوئی تبصرہ حاصل نہیں ہو سکا۔

دوسری جانب جبل طارق کی حکومت کے ایک باخبر ذریعے نے ایرانی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی فارس کی اس رپورٹ کی تردید کی ہے جس میں دعوی کیا گیا تھا کہ ایرانی تیل بردار جہاز "گریس 1" کو منگل کے روز آزاد کر کے برطانوی زیر انتظام علاقے سے روانہ کر دیا جائے گا۔ جبل طارق کی حکومت کے مطابق یہ رپورٹ درست نہیں ہے۔

برطانوی رائل میرینز کی فورس نے چار جولائی کو بحیرہ روم میں جبل طارق کے ساحل کے نزدیک ایران کے ایک تیل بردار جہاز کو تحویل میں لے لیا تھا۔ اس جہاز پر شبہ ہے کہ وہ یورپی یونین کی جانب سے عائد پابندیوں کی خلاف ورزی کرتے ہوئے یہ تیل شام منتقل کر رہا تھا۔ تاہم ایران نے اس بات کی تردید کی ہے۔