.

اسرائیلی وزیر کی قیادت میں یہودی آباد کاروں کا مسجد اقصی پر دھاوا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

بیت المقدس میں جمعرات کی صبح درجنوں یہودی آباد کاروں نے مسجد اقصی کے صحن پر دھاوا بول دیا۔ کارروائی میں قابض اسرائیلی حکومت کے وزیر زراعت اوری اریل پیش پیش تھے۔

فلسطینی سرکاری خبر رساں ایجنسی (وفا) نے عینی شاہدین کے حوالے سے بتایا کہ مسجد اقصی کے متولی اور پہرے دار مسجد کے مختلف حصوں میں پھیل گئے تا کہ دھاوا بولنے والے یہودی آباد کاروں کو ان کی مذہبی رسوم کی ادائیگی سے روکا جا سکے۔ عینی شاہدین نے یہ بھی بتایا کہ یہودی آباد کاروں کے دھاوؤں میں قابض اسرائیلی پولیس کی بھاری نفری ساتھ ہوتی ہے۔

ادھر اردن نے اتوار کے روز بیت المقدس میں اسرائیل کی جانب سے "مسلسل پامالیوں" کی شدید مذمت کی ہے۔ یہ موقف اتوار کو عید الاضحی کے پہلے روز مسجد اقصی کے حرم میں اسرائیلی پولیس اور فلسطینی نمازیوں کے درمیان تصادم کے بعد سامنے آیا۔

اردن کی وزارت خارجہ نے اپنے مذمتی بیان میں کہا کہ مملکتِ اردن عید کے پہلے روز اس نوعیت کی بے فائدہ کارروائیوں اور غیر ذمے دارانہ اشتعال انگیزی کو یکسر مسترد کرتی ہے۔

مسجد اقصی بیت المقدس کے مشرقی حصے میں واقع ہے۔ اسرائیل نے اس حصے پر 1967 میں قبضہ کر کے اسے ضم کر لیا تھا تاہم عالمی برادری نے اس اقدام کو تسلیم نہیں کیا۔

مسجد اقصی کے انتظام وانصرام کا ذمے دار اردن کے زیر انتظام محکمہ اسلامی اوقاف ہے۔ مشرقی بیت المقدس میں اسلامی مذہبی مقامات کی ذمے داری بھی اردن کے پاس ہے۔ تاہم مسجد اقصد کے داخلی راستوں پر قابض اسرائیلی افواج کا کنٹرول ہے۔

اسرائیل بیت المقدس شہر میں اسلامی مقامات مقدسہ کے لیے اردن کی نگرانی کو تسلیم کرتا ہے۔ اردن اور اسرائیل کے درمیان 1994 میں امن معاہدے پر دستخط کیے گئے تھے۔

فلسطینیوں کو 1967 کی جنگ کے بعد سے مسجد اقصی کی موجودہ حیثیت کو تبدیل کرنے کی اسرائیلی کوششوں کا اندیشہ ہے۔ موجودہ صورت میں مسلمانوں کو کسی بھی وقت مسجد اقصی میں داخل ہونے کی اجازت ہے جب کہ یہودی صرف مقررہ اوقات میں ہی مسجد میں داخل ہو سکتے ہیں اور انہیں وہاں نماز کی اجازت نہیں ہے۔