.

اسرائیل کا امریکی کانگریس کی دو مسلم ارکان کو داخلے کی اجازت سے انکار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل نے صدر ڈونلڈ ٹر مپ کے دباؤ پر امریکی کانگریس کی دو مسلمان ارکان الہان عمر اور رشیدہ طلیب کو اپنے ملک کا دورہ کرنے کی اجازت دینے سے انکار کر دیا ہے۔

صدر ٹرمپ نے اپنے ایک ٹویٹ میں کہا تھا کہ ان دو خواتین کو دورے کی اجازت دینے سے اسرائیل کی کمزوری ظاہر ہو گی۔ صدر ٹرمپ کا یہ بھی کہنا ہے کہ یہ دونوں کانگریس ویمن اسرائیل اور یہودیوں سے نفرت کرتی ہیں اور اس بارے میں ان کے خیالات کو تبدیل کرنے کے لیے کچھ بھی کرنا ممکن نہیں ہو گا۔ صدر ٹرمپ نے کہا کہ یہ دونوں خواتین منی سوٹا اور مشی گن کے لیے باعث ندامت ہیں اور وہاں کے لوگوں کے لیے انہیں دوبارہ منتخب کرنا بہت مشکل ہو گا۔

الہان عمر اور رشیدہ طلیب 18 سے 22 اگست تک یروشلم کا دورہ کرنے کا ارادہ رکھتی ہیں، جہاں مسلمانوں کا قبلہ اول اور یہودیوں کے اہم مذہبی مقامات موجود ہیں۔

وال سٹریٹ جرنل کی ایک رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یہ دونوں خواتین اسرائیل پہنچنے کے بعد یروشلم، بیت لحم ، الخلیل اور رام اللہ جانے کا ارادہ رکھتی تھیں۔ فلسطینیوں سے متعلق اسرائیلی حکومت کی پالیسی پر ان کی تنقید سے کئی حلقوں میں سوالات اٹھائے جا رہے تھے۔

بدھ کے روز اسرائیلی وزیر اعظم نیتن یاہو نے وزیر داخلہ، وزیر خارجہ، داخلی سیکورٹی کے وزیر، قومی سلامتی کونسل کے سربراہ اور اٹارنی جنرل کے ساتھ ایک خصوصی اجلاس میں امریکی کانگریس کی ان دونوں خواتین ارکان کے مجوزہ دورہ یروشلم کے حوالے سے غور کیا۔

اجلاس کے بعد اسرائیل کے سرکاری اہل کاروں نے میڈیا کو بتایا کہ اس بات کا واضح امکان موجود ہے کہ اسرائیل امریکی کانگریس کی ان دونوں ارکان کو یروشلم کا دورہ کرنے کی اجازت نہ دے۔

الہان عمر اور رشیدہ طلیب ڈیموکریٹک پارٹی کی طرف سے امریکی ایوان نمائندگان میں منتخب ہونے والی دو پہلی مسلمان خواتین ہیں۔