.

ایران: انٹرنیٹ اور سوشل میڈیا کی نگرانی کے لیے نئی وزارت

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں وزیر ثقافت و ارشادِ اسلامی عباس صالحی نے "وزارت ثقافت 2" کے نام سے ایک اور مماثل وزارت کے قیام کا اعلان کیا ہے۔ اس نئی وزارت کے مشن میں سائبر اسپیس، انٹرنیٹ کے علاوہ سوشل میڈیا ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کی کڑی نگرانی شامل ہے۔

ایرانی نیوز ایجنسی ILNA کے مطابق عباس صالحی کا کہنا ہے کہ حکومت کے وضع کردہ منصوبے کے مطابق آئندہ تین برسوں کے دوران "وزارت ثقافت 2 " کی تاسیس عمل میں آ جائے گی۔ صالحی کے مطابق نئی وزارت سائبر اسپیس کی سپریم کونسل کی متعین کردہ ہدایات کی روشنی میں ثقافتی سرگرمیوں کی بھی نگرانی انجام دے گی۔

امریکا نے ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای کے احکامات سے قائم ہونے والی سائبر اسپیس کی سپریم کونسل کو پابندیوں کی فہرست میں شامل کر دیا۔ اس کی وجہ کونسل کی جانب سے ہزاروں ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز کو بلاک کرنا اور ایرانیوں کو معلومات کے آزادانہ تبادلے سے محروم کرنا ہے۔

مذکورہ کونسل کو ہی ایران میں صحافیوں، ناقدین اور سوشل میڈیا سرگرم کارکنان کے خلاف بریک ڈاؤن مہم کا ذمے دار شمار کیا جاتا ہے۔

ایران نے 2009 میں عوامی احتجاج کے بعد سے سوشل میڈیا ویب سائٹس پر پابندی عائد کر دی تھی۔ تاہم بہت سے ایرانی ان ویب سائٹس اور ایپلی کیشنز میں داخل ہونے کے لیے پروکسی پروگرامز کا استعمال کرتے ہیں۔

ایرانی حکام کوشش کر رہے ہیں کہ شہریوں کو داخلی نیٹ ورک استعمال کرنے پر مجبور کر دیا جائے۔ یہ نیٹ ورک ایرانیوں کو بیرونی دنیا ، عالمی انٹرنیٹ اور مشہور سوشل میڈیا ویب سائٹس سے علاحدہ کرنے پر کام کر رہا ہے۔

انسانی حقوق کی تنظیموں اور ایرانی اپوزیشن گروپوں کا کہنا ہے کہ داخلی انٹرنیٹ نظام کا حقیقی مقصد نگرانی کو سخت کرنا ہے تا کہ لوگوں کے انٹرنیٹ کے استعمال پر حکام کا کنٹرول ہو جائے۔ اس طرح عوامی احتجاجات اور ہڑتالوں کی کوریج پر بھی قابو پا لیا جائے گا۔

حالیہ برسوں میں ایرانی حکومت نے صحافیوں کے خلاف بریک ڈاؤن کے علاوہ آزادیِ اظہار اور میڈیا کی آزادی پر بھی قد غن لگائی ہے۔ اس واسطے سوشل میڈیا کے میدان میں سرگرم کارکنان کو وسیع پیمانے پر ہمیشہ کے لیے خاموش کرانے کے علاوہ گرفتار بھی کیا گیا۔