.

ایرانی تیل بردار جہاز "گریس 1" کا عملہ امریکا میں داخل نہیں ہو سکے گا ؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

امریکا نے ایرانی تیل بردار جہاز "گریس 1" کے عملے کے اپنی اراضی میں داخلے پر پابندی کی دھمکی دی ہے۔

امریکی وزارت خارجہ کی ترجمان مورگن اورٹیگوس نے جمعے کے روز بتایا کہ تیل بردار جہاز "گریس 1" ایرانی پاسداران انقلاب کی معاونت کر رہا تھا جس کو واشنگٹن ایک دہشت گرد تنظیم قرار دے چکا ہے ... اس کا مطلب ہوا کہ جہاز کا عملہ ممکنہ طور پر امریکی ویزا حاصل کرنے کا اہل نہیں ہو گا یا دہشت گردی سے متعلق وجوہات کی بنا پر ان کا امریکا میں داخلہ مسترد کر دیا جائے گا۔

اس سے قبل جمعرات کے روز جبل طارق کے حکام نے اپنی تحویل میں موجود ایرانی تیل بردار جہاز رہا کرنے کا اعلان کیا تھا۔ تہران نے برطانوی زیر انتطام علاقے کے حکام کو ضمانت دی ہے کہ ایرانی جہاز شام کی کسی بندرگاہ کا رخ نہیں کرے گا۔

بعد ازاں اعلان کیا گیا کہ جبل طارق میں عدالت عظمی نے ایرانی تیل بردار جہاز کی رہائی کا فیصلہ کیا۔

ایرانی تیل بردار جہاز "گریس 1" کی رہائی کا فیصلہ ، ایرانی حکومت کی جانب سے جبل طارق کے حکام کو موصول ہونے والی تحریری سرکاری یقین دہانی کے بعد عمل میں آیا۔ تحریری یقین دہانی میں کہا گیا تھا کہ جہاز میں لدے تیل کو شام میں نہیں اتارا جائے گا۔

ایران کی نیم سرکاری خبر رساں ایجنسی "مہر" نے ایک ایرانی سمندری ذمے دار کے حوالے سے بتایا ہے کہ "گریس 1" کے مالک کا کہنا ہے کہ تیل بردار جہاز بحیرہ روم کی بندرگاہوں کا رخ کرے گا۔ تاہم یہ نہیں بتایا گیا کہ اس سے کون سی بندرگاہیں مراد ہیں۔

دوسری جانب برطانیہ نے ایران پر زور دیا ہے کہ وہ تیل بردار جہاز کے سلسلے پیش کی گئی ضمانتوں کی پاسداری کرے۔ برطانیہ کے مطابق ایرانی تیل بردار جہاز کی رہائی اور آبنائے ہرمز میں ایران کے غیر قانونی تصرفات کے درمیان کوئی تعلق نہیں۔

ایرانی تیل بردار جہاز کو جس میں بیس لاکھ بیرل سے زیادہ تیل لدا ہوا ہے ، جبل طارق کی پولیس اور برطانوی اسپیشل فورسز نے 4 جولائی کو قبضے میں لے لیا تھا۔ اس اقدام کی وجہ یہ شبہ تھا کہ ایرانی تیل بردار جہاز شام کو تیل منتقل کر رہا ہے جو کہ یورپی یونین کی شام پر عائد پابندیوں کی صریح خلاف ورزی ہے۔