اسرائیلی فوج کے غزہ میں حماس کے زیر زمین ڈھانچے پر دو فضائی حملے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

اسرائیل کے لڑاکا طیاروں نے ہفتے کے روز غزہ کی پٹی میں حماس کے زیر زمین ٹھکانوں پر دو فضائی حملے کیے ہیں۔

اسرائیل کی دفاعی افواج نے اپنے ٹویٹر اکاؤنٹ پر لکھا ہے کہ ان فضائی حملوں میں غزہ میں حماس کے زیر زمین انفرا اسٹرکچر کو نشانہ بنایا گیا ہے۔ تاہم اس نے اس فضائی بمباری میں کسی قسم کے نقصان کی کوئی اطلاع نہیں دی ہے۔

اسرائیلی فوج نے یہ فضائی حملہ غزہ کی پٹی سے اسرائیل کے جنوب کی جانب ایک راکٹ فائرہونے کے ردعمل میں کیا ہے۔اسرائیل کے آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نے اس راکٹ کو ناکارہ بنا دیا تھا۔اس سے قبل اسرائیل کے جنوبی قصبے سدیروت اور اس کے نواحی علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے تھے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان کا کہنا تھا کہ بارہ جولائی کے بعد اس طرح کا یہ پہلا راکٹ حملہ تھا۔

قبل ازیں اسرائیل اور غزہ کے درمیان حفاظتی باڑ کے نزدیک جمعہ کو ہفتہ وار مظاہرے کے شرکاء پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کردی تھی جس کے نتیجے میں بتیس فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پر مظاہرے میں قریباً پانچ ہزار چھے سو افراد شریک تھے۔ان میں سے بعض افراد فوجیوں کی جانب دستی بم اور دھماکا خیز مواد پھینک رہے تھے اور باڑ کی جانب بڑھنے کی کوشش کررہے تھے۔

واضح رہے کہ محاصرہ زدہ غزہ کے مکین اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف مارچ 2018ء سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ وہ ہر جمعہ کو اسرائیلی فوج کے خلاف حفاظتی باڑ کے نزدیک مظاہرہ کرتے ہیں۔اس دوران میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں تین سو دو فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں میں سات اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ اور مصر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا ایک سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے بعد تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے مگر اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں