اسرائیل سفر کے لئے ’مشروط اجازت‘ نامنظور: رشیدہ طلیب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size

فلسطینی نژاد امریکی قانون ساز رشیدہ طلیب نے اسرائیل کی جانب سے فلسطین کے مقبوضہ مغربی کنارے میں اہل خانہ سے ملاقات کی مشروط اجازت کو ’جبر‘ قرار دے کر ٹھکرا دی۔

واضح رہے کہ گزشتہ روز اسرائیل نے امریکی خاتون قانون ساز رشیدہ طلیب کو انسانی بنیادوں پر مقبوضہ مغربی کنارے میں آباد اہل خانہ بالخصوص دادی سے ملاقات کی اجازت دی تھی۔ تل ابیب نے رشیدہ طلیب پر شرط عائد کی تھی کہ وہ اسرائیل کے بائیکاٹ کی مہم کو فروغ نہیں دیں گی۔

بعد ازاں امریکی کانگریس رکن نے اسرائیل کو تحریر طور پر کہا تھا کہ 'میں ہر قسم کی پابندیوں کا احترام کروں گی اور اپنے دورے کے دوران اسرائیل کے بائیکاٹ کو فروغ نہیں دوں گی۔'

خیال رہے کہ اسرائیل نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ کے دباؤ پر امریکی کانگریس کی مسلمان خواتین پر اپنے ملک میں داخلے پر پابندی لگائی تھی۔ اسرائیل کی جانب سے مشروط اجازت ملنے کے چند گھنٹوں بعد ہی رشیدہ طلیب نے تل ابیب کی مشروط پیشکش مسترد کردی۔

رشیدہ طلیب نے متعدد ٹوئٹس کیں اور وضاحت دی کہ انہوں نے اسرائیلی ظلم و ستم کے سائے میں ملنے والی مشروط اجازت سے کیوں انکار کیا۔ انہوں کہا کہ ’فلسطین میں اسرائیلی ظلم وجبر کے نظام میں اہل خانہ سے ’مشروط ملاقات نسل پرستی، جبر اور ناانصافی کے خلاف ان کے یقین کو توڑ دے گا‘۔

رشیدہ طلیب کا کہنا تھا کہ ’جب میں کانگریس کا حصہ بنی تو فلسطینیوں میں امید کی کرن جاگی کہ کوئی تو اسرائیل کے غیرانسانی سلوک کے بارے میں حقائق پر آواز اٹھائے گا‘۔

واضح رہے کہ 43 سالہ رشیدہ طلیب رواں برس جنوری میں کانگریس رکن منتخب ہوئی تھیں۔

انہوں نے کہا کہ ’میں اسرائیل کو اجازت نہیں دے سکتی کہ وہ اہلخانہ سے ملاقات کے بدلے میں میری توہین کرے اور میرا سر اسرائیلی جبر اور نسل پرستانہ سیاست کے آگے جھک جائے‘۔ ان کا کہنا تھا کہ ’میری دادی نہیں چاہتی کہ اسرائیل میری آواز کو خاموش کردے اور میرے ساتھ بطور مجرم جیسا سلوک برتا جائے‘۔

واضح رہے کہ سوشل میڈیا پر فلسطینیوں کی جانب سے راشدہ طلیب پر دباؤ تھا کہ اسرائیلی شرائط پر اپنے اہلخانہ سے ملاقات نہ کریں۔ رشیدہ طلیب نے اپنی دادی کی تصویر شیئر کرتے ہوئے کہا کہ ’وہ جو کچھ آج ہیں اپنی دادی کی وجہ سے ہیں‘

مقبول خبریں اہم خبریں