حوثیوں کا دورہ تہران، ایران کی پیروی کا برملا اعتراف ہے: مبصرین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
3 منٹس read

یمن کی باغی حوثی ملیشیا کے وفد کے تہران کے علانیہ دورے اور ایران میں سپریم لیڈر سے پہلی مرتبہ ملاقات کے حوالے سے وسیع پیمانے پر رد دعمل سامنے آئے ہیں۔ مبصرین کے مطابق یہ اس بات کی ایک نئی دلیل ہے کہ حوثی جماعت جزیرہ نما عرب کے جنوب میں محض ایرانی نظام کا ایک دُم چھلا ہے۔ اقوام متحدہ کی ذیلی تنظیموں کے ذریعے یہ بات ثابت ہو چکی ہے کہ حوثی باغی ایرانی نظام سے احکامات وصول کرتے ہیں اور انہیں اس سلسلے میں عسکری اور مالی سپورٹ حاصل ہے۔

صنعاء میں سیاسی ذرائع کے مطابق لبنانی ملیشیا حزب اللہ نے حوثی ملیشیا کی قیادت کو یہ نصیحت کی تھی حوثیوں کے سرغنے کی جانب سے ایران میں سپریم لیڈر کو ایک پیغام بھیجا جائے جس میں ان کی پیروی اور وفاداری کا برملا اظہار کیا جائے۔ حوثیوں کے وفد نے اپنے ترجمان محمد عبدالسلام کے ساتھ ایرانی سپریم لیڈر علی خامنہ ای سے ملاقات کی۔ اس دورے کو ایرانی میڈیا میں غیر معمولی پذیرائی حاصل ہوئی۔

ایران کی عدم پیروکاری اور اس کے حلیف نہ ہونے کے بارے میں حوثیوں کے دعوؤں کے برخلاف تہران نے سیاسی اور ذرائع ابلاغ کے پہلو سے اس دورے کے فوائد حاصل کرنے کی کوشش کی۔ اس طرح کہ خطے میں ایرانی نظام کا دھڑا ہونے کی حیثیت سے حوثی ملیشیا کی جانب سے تہران کی پیروی کا اظہار سامنے آئے۔

یمنی مبصرین نے باور کرایا کہ ایران کے لیے حوثی ملیشیا کی ایجنٹ گیری خفیہ مرحلے سے نکل کر علانیہ صورت اختیار کر چکی ہے۔ حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام مسلکا ایران کے سپریم لیڈر کی بیعت کرنے کا اعلان کر چکے ہیں۔ اس طرح حوثی ملیشیا کی حیثیت محض یمن میں ایران کے بازو کی سی ہے۔ بالکل اسی طرح جیسے لبنان میں حزب اللہ اور عراق میں الحشد الشعبی کی پوزیشن ہے۔

ایران کو حوثی ملیشیا کی فنڈنگ کرنے والے مرکزی ذریعے کی حثییت حاصل ہے۔ وہ حوثی باغیوں کو مادی، عسکری، تکنیکی اور مشاورتی سپورٹ پیش کرتا ہے۔ حوثیوں کے ترجمان محمد عبدالسلام تہران کے ساتھ مکمل صورت میں رابطہ کاری کے ذمے دار ہیں۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ تہران نے حوثیوں کے وفد کے دورے سے فائدہ اٹھاتے ہوئے خطے اور دنیا کے ممالک کو یہ پیغام دینے کی کوشش کی کہ حوثی ملیشیا سعودی سرحد پر، باب المندب کے علاقے اور بحر احمر کے ساحلوں میں ایران کا بازو ہے اور ایران اپنے اس ونگ کو خطے کی اور بین الاقوامی جہاز رانی کی سیکورٹی کو خطرے میں ڈالنے کے واسطے استعمال کر سکتا ہے۔ بالخصوص جب کہ آبنائے ہرمز کے علاقے میں تہران کی علاقائی ممالک اور امریکا کے ساتھ کشیدگی میں اضافہ ہو رہا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں