غزہ میں ایک ماہ کے بعد پھر حالات کشیدہ، اسرائیلی فوج کا راکٹ روکنے کا دعویٰ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اسرائیلی فوج نے دعویٰ کیا ہے کہ غزہ کی پٹی سے فلسطینیوں نے اسرائیل کے جنوب کی جانب ایک راکٹ فائر کیا ہے لیکن اس کو کسی ہدف پر گرنے سے پہلے ہی ناکارہ بنا دیا گیا ہے۔

اسرائیلی فوج کے ایک بیان کے مطابق آئرن ڈوم میزائل دفاعی نظام نے اس راکٹ کو روکا ہے۔اس سے قبل اسرائیل کے جنوبی قصبے سدیروت اور اس کے نواحی علاقوں میں فضائی حملے کے سائرن بجائے گئے تھے۔اسرائیلی فوج کے ترجمان نے کہا ہے کہ بارہ جولائی کے بعد اس طرح کا یہ پہلا راکٹ حملہ ہے۔

قبل ازیں اسرائیل اور غزہ کے درمیان حفاظتی باڑ کے نزدیک ہونے والے ہفتہ وار مظاہرے کے شرکاء پر اسرائیلی فوج نے اندھا دھند فائرنگ کردی ہے جس کے نتیجے میں بتیس فلسطینی زخمی ہوگئے ہیں۔ فلسطینی وزارت صحت کے ترجمان نے ان زخمیوں کی تصدیق کی ہے۔

اسرائیلی فوج کی خاتون ترجمان نے اے ایف پی سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ سرحد پر مظاہرے میں قریباً پانچ ہزار چھے سو افراد شریک تھے۔ان میں سے بعض افراد فوجیوں کی جانب دستی بم اور دھماکا خیز مواد پھینک رہے تھے اور باڑ کی جانب جانے کی کوشش کررہے تھے۔

واضح رہے کہ محاصرہ زدہ غزہ کے مکین اسرائیل کی چیرہ دستیوں کے خلاف مارچ 2018ء سے سراپا احتجاج بنے ہوئے ہیں۔ وہ ہر جمعہ کو اسرائیلی فوج کے خلاف حفاظتی باڑ کے نزدیک مظاہرہ کرتے ہیں۔اس دوران میں اسرائیلی فوج کی فائرنگ اور طاقت کے وحشیانہ استعمال کے نتیجے میں تین سو دو فلسطینی شہید ہوچکے ہیں جبکہ غزہ میں فلسطینیوں کے ساتھ جھڑپوں میں سات اسرائیلی ہلاک ہوئے ہیں۔

تاہم اقوام متحدہ اور مصر کی ثالثی کے نتیجے میں اسرائیل اور حماس کے درمیان جنگ بندی کا سمجھوتا طے پایا تھا۔اس کے بعد تشدد کے واقعات میں نمایاں کمی واقع ہوئی ہے مگر اب یہ سلسلہ دوبارہ شروع ہو گیا ہے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں