.

آئیے آپ بھی سعودی عرب میں گھر میں بنے میوزیم کی سیر کریں

ایک صدی پرانا مکان 'بیت حسین' عجائب گھر میں تبدیل ہوچکا ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے وسطی شہرعودہ سدیر کے مقام پر ایک صدی پرانا مکان اپنی تاریخی نوادرات کی بہ دولت میوزیم میں تبدیل کرکے تاریخ اور تہذیب رفتہ کی یادگاروں کو زندہ رکھنے کی منفرد کوشش کی گئی ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق 'عودہ سدیر' میں واقع یہ مکان 'تاریخی بیت الحسین' کے نام سے مشہور ہے۔ اس گھر میں ایک صدی قبل عام استعمال کی اشیاء محفوظ کی گئی ہیں۔ نجد کی پرانی یادگاریں، برتن اور بہت کچھ اس مٹی کے گھروندے میں محفوظ اور زائرین کو ماضی کی یادوں میں گم کردیتا ہے۔

'بیت الحسین' 93 سال پرانا ہے۔ اس گھرکے مکین کوئی لوگ نہیں بلکہ ایک جید عالم دین اور معلم قرآن الشیخ سعد بن محمد بن حسین تھے جو شہرکے خطیب اور علاقے کے گورنر بھی رہے۔

سنہ 1431ھ کو ڈاکٹر محمد بن سعد بن حسین نے اس مکان کی دوبارہ مرمت کی۔ مرمت کا کام زین الحسین کوسونپا گیا جنہوں نے بھرپور محنت کے ساتھ اس کی مرمت کا کام مکمل کیا۔ اس کے بعد اسے میوزیم میں تبدیل کردیا گیا۔ آج یہ گھر سعودی عرب میں ایک تاریخی میوزیم کی شکل اختیار کرچکا ہے۔ اس میں ہزاروں کی تعداد میں تاریخی فن پارے، نوادرات اور نجد صوبے کی تاریخی یادگاریں ماضی کی کہانی بیان کرتی ہیں۔

بیت الحسین تاریخ اور تہذیب رفتہ کے عشاق کے لیے مرجع خلائق ہے۔ سعودی عرب میں دور دور تک اس کے چرچے ہیں اور لوگ ملک کے طول وعرض سے اس کی وزٹ کے لیے آتے ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق نوادرات کے شوقین زید محمد الحسین نے کہا کہ مجھے اس گھر کومیوزیم میں تبدیل کرنے کے لیے کافی عرصہ لگا۔ مگرکافی عرصے سے اسے زائرین کے لیے کھول دیا گیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ مکان کے دروازوں کی حفاظت کے لیے ایک الگ سے ورکشاپ ہال موجود ہے۔ پرانی گاڑیوں کے لیے پارکنگ بھی اس کا حصہ ہے۔ میوزیم کے وزٹ کے لیے زائرین کی باقاعدہ رہ نمائی کا انتظام بھی کیا گیا ہے۔

گھرمیں بنائے گئے میوزیم کے ساتھ ایک عوامی کونسل، یوتھ کونسل، شادی ہال،لائبریری، پرانے دور کے بچھونے، زرعی آلات، تدریسی عمل میں استعمال ہونے والی اشیاء، اسلحہ، پرانے جرائد اور مخطوطے، غلاف کعبہ کا ایک پڑانا ٹکڑا، پرانے ریڈیو اور ٹیلی ویژن سیٹ اور سیکڑوں دیگر نوادرات شامل ہیں۔