.

ایرانی نظام حکومت کے مختلف کل پرزوں میں ٹکراؤ، گالم گلوچ کا تبادلہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ایران میں حکمراں نظام سے تعلق رکھنے والی "بزرگ" اور "اہل علم" شخصیات کے درمیان تنازع گالم گلوچ اور الزامات کے تبادلے کی حد تک پہنچ چکا ہے۔ اسی سلسلے میں ایرانی مجلس تشخیص مصلحت نظام کے سربراہ آیت اللہ صادق آمولی لاریجانی نے اپنے ناقدین کو سخت جواب دیتے ہوئے فقہاءِ شوری نگہبان کے رکن آیت اللہ محمد یزدی پر جھوٹ اور جعل سازی کا الزام عائد کیا ہے۔

ادھر شیعہ مرجع ناصر مکارم الشیرازی نے لاریجانی اور یزدی کے درمیان کشیدگی اور تناؤ کو ٹھنڈا کرنے پر زور دیا ہے تا کہ "مذہبی شخصیات اور حکمراں نظام کی ساکھ کو برقرار رکھا جا سکے"۔

ایران کی سرکاری خبر رساں ایجنسیوں نے اتوار کے روز لاریجانی کا ایک کھلا خط جاری کیا تھا۔ اس میں لاریجانی نے یزدی پر الزام عائد کیا گیا تھا کہ وہ جھوٹ پھیلانے کے علاوہ افواہیں اور بدنامی کا بازار گرم کر رہے ہیں۔ اس سے قبل یزدی نے لاریجانی پر الزام عائد کیا تھا کہ انہوں نے مذہبی درس گاہوں کی آڑ میں محلوں کی تعمیر کر لی اور عدلیہ کے سربراہ ہونے کے وقت اپنے منصب سے ناجائز فائدہ اٹھایا۔

لاریجانی نے ان رپورٹوں کو بے بنیاد قرار دیا جن میں کہا گیا تھا کہ لاریجانی نجف ہجرت کر جانے کا ارادہ رکھتے ہیں۔ انہوں نے اپنے دفتر کے ڈائریکٹر کی بدعنوانی کے الزام میں گرفتاری کی بھی تردید کی۔

ادھر یزدی کا کہنا ہے کہ لاریجانی کے قم میں ہونے یا نجف چلے جانے سے کوئی فرق نہیں پڑتا کیوں کہ اس شخصیت کا کوئی قابل ذکر مذہبی اثر نہیں ہے۔ اس پر لاریجانی نے اپنے خط میں یزدی کو سختی سے جواب دیتے ہوئے لکھا کہ "قُم میں مذہبی درس گاہ میں آپ کی آراء کو کوئی بھی سنجیدگی سے نہیں لیتا ہے"۔

ایرانی سرکاری ٹی وی نے گذشتہ چند روز کے دوران متعدد رپورٹیں اور انٹرویوز نشر کیے جن میں لاریجانی کے دور میں عدلیہ کی بد انتظامی اور بدعنوانی کو غیر معمولی طریقے سے تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ لاریجانی پر بدعنوانی، عہدے سے ناجائز فائد اٹھانے، ناقدین کے خلاف کریک ڈاؤن اور حریفوں کو خاموش کرا دینے کے الزامات عائد کیے گئے۔

خط میں لاریجانی نے سرکاری ٹی وی پر اپنے خلاف عائد الزامات کا جواب تو نہیں دیا مگر انہوں نے کہا کہ "میرے خلاف بالخصوص ٹی وی اسکرین پر سامنے آنے والی تنقیدی مہم درحقیقت میری ساکھ خراب کرنے کے واسطے پیشگی منصوبہ بندی کے منظر نامے کا ایک حصہ تھا۔

لاریجانی نے یہ دھمکی بھی دی کہ ان کے پاس اعلی سطح کی سیاسی شخصیات اور ایران میں حکمراں سیاسی اشرافیہ کے حوالے سے رازوں کی ایک طویل فہرست ہے۔ لاریجانی کے مطابق وہ مختلف محکموں میں ذمے داران کے درمیان بدعنوانی کے بارے میں جانتے تھے جن میں ایرانی پاسداران انقلاب کی انٹیلی جنس کا ادارہ بھی شامل ہے۔

ایرانی امور کے تجزیہ کار یہ سمجھتے ہیں کہ لاریجانی کے حوالے سے اختلاف درحقیقت ایران میں خامنہ ای کی وفات کے بعد مرشد اعلیٰ کے منصب کے واسطے اُن کے ممکنہ جاں نشینوں کے صفائے کی مہم کا حصہ ہے۔ اس کا مقصد خامنہ ای کے بیٹے مجتبی یا کسی بھی ایسے شخص کے لیے راہ ہموار کرنا ہے جس کو مرشد اعلی مناسب خیال کرتے ہوں۔

مبصرین کے نزدیک مذکورہ دونوں مذہبی شخصیات کے درمیان متبادل معرکہ آرائی کے بارے میں خامنہ ای کی خاموشی اس بات کو ظاہر کر رہی ہے کہ خامنہ ای ... لاریجانی کے خلاف تنقید پر ضمنی موافقت رکھتے ہیں۔