.

ترکی میں تین شہروں کے میئر دہشت گردی کے الزام میں برطرف

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی کے تین شہروں کے کرد برادری کے حامی تین میئر برطرف کر دیے گئے ہیں۔ ان تینوں پر دہشت گرد تنظیموں کی معاونت کا الزام عاید کیا گیا ہے۔

ترک وزارت داخلہ کی طرف سے جاری ایک بیان میں کہا گیا ہے کہ ایک کرد جماعت کے حامی تین شہروں دیار بکر، فان اور جنوب مشرقی شہر ماردین کے میئر کو ان کےعہدوں سے ہٹانے کے بعد ان کی جگہ نئے عہدیدار تعینات کیے گئے ہیں۔ جنوب مشرقی ترکی میں امن وامان کی صورت خراب کرنے کے شبے اور عسکری گروپوں کی معاونت کے الزام میں 400 افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ ترک صدر رجب طیب ایردوآن نے رواں سال مارچ میں ہونے والے بلدیاتی انتخابات سے قبل خبردار کیا تھا کہ اگر کسی بلدیاتی نمائندے کا کسی بھی مسلح گروپ کے ساتھ تعلق ثابت ہوا تو اسے عہدے سے ہٹا دیا جائے گا۔

ترک وزارت داخلہ کے مطابق تینوں شہروں کے برطرف کیے گئے میئروں پر دہشت گردی کے مختلف جرائم کے ارتکاب کا الزام عاید کیا گیا ہے۔ ان پر دہشت گرد تنظیموں کی حمایت میں مہمات چلانے اور پروپیگنڈہ کرنے کے الزامات ہیں۔

وزارت داخلہ نے 'ٹویٹر' پرایک ٹویٹ میں بتایا کہ پولیس نے 29 صوبوں میں عسکری گروپوں سے وابستگی کے شبے میں 418 مشتبہ افراد کو حراست میں لیا ہے۔ گرفتار کیے گئے افراد پر کرد ورکرز پارٹی سے رابطوں کا شبہ ظاہر کیا گیا ہے۔

خیال رہے کہ سنہ 2016ء کو ترکی میں حکومت کا تختہ الٹنے کی ناکام کوشش کے بعد کردوں کے حامی سیکڑوں افراد کو حراست میں لیا گیا ہے۔

ترکی میں کالعدم کرد ورکرزپارٹی کے مطابق ناکام بغاوت کے بعد پولیس نے ایک سو شہروں کے میئر اور جماعت کے ہزاروں کارکنوں کو حراست میں لیا ہے۔