.

سعودی ولی عہد کی سوڈانی قیادت سےٹیلی فون پرگفتگو، تاریخی عبوری سمجھوتے پر مبارک باد

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

سعودی عرب کے ولی عہد شہزادہ محمد بن سلمان نے سوڈان کی نو تشکیل خود مختار کونسل کے سربراہ جنرل عبدالفتاح البرہان اورحزب اختلاف کے احتجاجی گروپوں کے اتحاد برائے تبدیلی اور آزادی کے قائد احمد ربیع سے ٹیلی فون پر بات چیت کی ہے۔انھوں نے ایتھوپیا کے وزیراعظم ابی احمد اور افریقی یونین کمیشن کے چئیرپرسن سے بھی فون پرگفتگو کی ہے۔

سعودی پریس ایجنسی کے ایک بیان کے مطابق شہزادہ محمد بن سلمان نے سوڈانی فریقوں کے درمیان تاریخی سمجھوتا طے پانے پر انھیں مبارک باد دی ہے۔

انھوں نے اوّل الذکر سوڈانی رہ نماؤں سے گفتگو کرتے ہوئے تاریخی سمجھوتے پر دست خط کے بعد سوڈان میں سلامتی اور استحکام کے لیے سعودی عرب کے عزم کا اعادہ کیا اور کہا کہ سوڈان میں استحکام خطے میں استحکام کے لیے بڑی اہمیت کا حامل ہے۔

سوڈان کی حزبِ اختلاف نے سمجھوتے کے تحت قائم ہونے والی خود مختار کونسل کے لیے اتوار کو اپنے پانچ ارکان نامزد کردیے ہیں۔ جنرل عبدالفتاح البرہان کے زیر قیادت گیارہ ارکان پر مشتمل یہ کونسل آج سوموار کو حلف اٹھا رہی ہے۔

سوڈان کی حکمراں عبوری فوجی کونسل کی قیادت اور حزب اختلاف کے لیڈروں نے ہفتے کو شراکت اقتدار کے اس سمجھوتے پر دست خط کیے تھے۔اس کے تحت پہلے عبوری حکومت تشکیل دی جارہی ہے اور پھر بتدریج ملک میں نئے عام انتخابات کے انعقاد کی راہ ہموار ہوگی۔

مجوزہ خود مختار کونسل ملک کی اعلیٰ اختیاراتی اتھارٹی ہوگی۔ تاہم انتظامی اختیارات کابینہ کے وزراء کو حاصل ہوں گے۔شراکت اقتدار کے فارمولے کے تحت اس کے پانچ ارکان کا عبوری فوجی کونسل انتخاب کرے گی جبکہ حزب اختلاف کے اتحاد نے اپنے پانچ ارکان نامزد کردیے ہیں۔ ایک رکن کا دونوں فریق متفقہ طور پر انتخاب کریں گے۔