.

مسجد اقصیٰ کی بے حرمتی پر اردن میں اسرائیلی سفیر کی طلبی

حرم قدسی میں اسرائیل کی مذہبی غنڈہ گردی ناقابل قبول ہے

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اردن کی حکومت نے یہودی آباد کاروں، قابض صہیونی فوج اور پولیس کے ہاتھوں مسجد اقصیٰ کی مسلسل ہونے والی بے حرمتی پراسرائیل سے سخت احتجاج کیا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق اردن میں تعینات اسرائیلی سفیر کو وزارتِ خارجہ کے دفتر میں طلب کرکے حرم قدسی کی مسلسل بے حرمتی اور یہودی آباد کاروں کی اشتعال انگیز کارروائیوں پراحتجاج کیا گیا۔

اردنی وزارت خارجہ کے ترجمان سفیان سلمان القضاۃ نے ایک بیان میں کہا کہ وزارت خارجہ کے سیکرٹری جنرل زید اللوز نے اسرائیلی سفیر کوطلب کر کے انہیں اپنے احتجاج اور موقف سے آگاہ کیا۔ اسرائیلی سفیر کو ایک احتجاجی مراسلہ دیا گیا اور کہا گیا کہ وہ فوری طورپر یہ مراسلہ اپنی حکومت تک پہنچائے اور اس پرعمل درآمد کرائے۔

اردن نے واضح کیا ہے کہ حرم قدسی اور مسجد اقصیٰ کے تاریخی، اسلامی اور عرب تشخص کے ساتھ کسی قسم کی چھیڑ چھاڑ کی اجازت نہیں دی جائے گی۔ عمان نے اسرائیل پر زور دیا کہ وہ مسجد اقصیٰ کی روزمرہ کی بنیاد پر جاری بے حرمتی کا سلسلہ بند کرائے۔ القدس اور قبلہ اول کے تاریخی، آئینی اور دینی تشخص کے حوالے سے طے پائے معاہدوں پرعمل درآمد کرے۔

سفیان سلمان القضاۃ نے کہا کہ اسرائیلی سفیر پر واضح کیا گیا ہے کہ مسجد اقصیٰ کا 144 دونم حصہ صرف مسلمانوں کے لیے عبادت کی جگہ ہے۔ اس میں یہودی آبادکاروں کا داخلہ مذہبی اشتعال انگیزی ہے۔

اردنی وزارت خارجہ نے فلسطینی نمازیوں کے لیے مسجد اقصیٰ کے دروازے بند کرنے کے اقدام اور فلسطینیوں پر قبلہ اول میں نماز اور عبادت پر پابندی کی شدید مذمت کی اور فلسطینیوں پرعاید کی گئی تمام پابندیاں ختم کرنے اور مسجد اقصیٰ کے امور میں مداخلت سے باز رہنے کا مطالبہ کیا۔

درایں اثناء اردن کے وزیرخارجہ ایمن الصفدی نے بھی مسجد اقصیٰ پر صہیونی یلغار کی شدید مذمت کی ہے۔ انہوں نے عالمی برادری پر زور دیا کہ وہ اسرائیل کو قبلہ اول کی بے حرمتی سے روکے۔ ایمن الصفدی نے کہا کہ مسجد اقصیٰ کےتاریخی اسٹیس کو نقصان پہنچانے کے خطرناک نائج سامنے آئیں گے۔

یورپی ممالک کےسفیروں سے ملاقات میں انہوں نے کہا کہ القدس اور مسجد اقصیٰ کے تاریخی اور قانونی تشخص کو پامال کرنے کے خطرناک نتائج سامنے آ سکتے ہیں اور اس کی تمام تر ذمہ داری اسرائیل پرعاید ہوگی۔