ہماری جنگ خطے میں ایرانی پروگرام کے خلاف ہے: یمنی وزیراعظم

یمن میں آئینی حکومت کی عمل داری کے لیے ریاض کی خدمات کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

یمن کی عالمی سطح پر تسلیم شدہ حکومت کےسربراہ معین عبدالملک نے ملک میں آئینی حکومت کی عمل داری کی بحالی اور ایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا کے خلاف سعودی عرب کی قیادت میں قائم عرب اتحاد کی کوششوں کا خیر مقدم کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ سعودی عرب کی قیادت نے یمن میں امن واستحکام کی بحالی کے لیے ناقابل فراموش خدمات انجام دی ہیں۔ یمن کو باغیوں سے آزاد کرانے کا بڑا بوجھ سعودی عرب نے اٹھایا ہے۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق یمن میں برطانوی سفیر مائیکل آرون سےملاقات کے دوران معین عبدالملک نے کہا کہ ہماری فیصلہ کن لڑائی ایرانی پروگرام کے خلاف ہے۔ یمن میں ایرانی حمایت یافتہ حوثی باغیوں کو ملک پرقبضے کی ہرگز اجازت نہیں دیں گے۔ ایرانی توسیع پسندانہ پروگرام کو یمن میں دفن کردیں گے۔

یمن کے عبوری دارالحکومت عدن میں چند روز قبل ہونےوالے فسادات پرافسوس کا اظہار کرتے ہوئے وزیراعظم نے امن وامان کی بحالی میں سعودی عرب کے کردار کو سراہا۔

انہوں نے کہا کہ سعودی عرب نے عدن میں حکومت اورعلاحدگی پسند عبوری کونسل کے درمیان پیدا ہونے والے تنازع کو خوش اسلوبی سے ختم کرکے یمن کو ایک اور بڑی تباہی سے بچالیا۔ معین عبدالملک نےایرانی حمایت یافتہ حوثی ملیشیا پر ملک میں فرقہ واریت پھیلانے کا الزام عاید کیا۔

دوسری جانب برطانوی سفیر نے یمن کی آئینی حکومت کی مکمل حمایت کا یقین دلایا اور کہا کہ برطانیہ یمن میں دیر پا امن کےقیام،لڑائی کے خاتمے اور ملک کے استحکام کے لیے عالمی سطح پرہونے والی تمام کوششوں کی معاونت کرے گا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں