اقوام متحدہ ایلچی: جنوبی یمن میں قیام امن کے لیے سعودی عرب کی انتھک کاوشوں کی تحسین

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

اقوام متحدہ کے خصوصی ایلچی برائے یمن مارٹن گریفتھس نے جنوبی یمن میں امن وامان کی بحالی اور استحکام کے لیے سعودی عرب کے نائب وزیر دفاع شہزادہ خالد بن سلمان کے ’’انتھک کردار‘‘ کو سراہا ہے۔

انھوں نے منگل کے روز ایک ٹویٹ میں شہزادہ خالد بن سلمان سے گذشتہ روز اپنی ملاقات کو مفید اور مثبت قرار دیا ہے اور کہا ہے کہ ’’سعودی عرب نے جنوبی یمن میں امن وامان کی بحالی اور استحکام کے لیے شہزادہ خالد بن سلمان آل سعود کی قیادت میں انتھک کردار ادا کیا ہے۔ہم نے مکالمہ جاری رکھنے کی ضرورت سے اتفاق کیا ہے۔‘‘

سعودی عرب اور اس کے قریبی اتحادی متحدہ عرب امارات نے جنوبی یمن میں صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قانونی حکومت اور جنوبی عبوری کونسل (ایس ٹی سی )کے درمیان بحران کے خاتمے کے لیے اہم کردار ادا کیا ہے۔ سعودی عرب نے ان کے درمیان تنازع کے حل کے لیے ایک کانفرنس بھی طلب کی ہے۔

ان دونوں ملکوں کی مصالحتی کاوشوں کے بعد ہی یمن کی جنوبی عبوری کونسل نے گذشتہ ہفتے کے روز عدن میں قبضے میں لی گئی سرکاری عمارتوں اور تنصیبات کو خالی کر دیا تھا اورعدن اسپتال ، مرکزی بنک اور دوسری متعدد سرکاری عمارتوں کا کنٹرول یمن کے صدارتی بریگیڈز کے حوالے کردیا تھا۔

سعودی عرب کی قیادت میں عرب اتحاد نے یمنی حکومت اور ایس ٹی سی کی فورسز سے فوری جنگ بندی کی اپیل کی تھی اور کہا تھا کہ ان دونوں فریقوں کو آپس میں محاذ آرائی سے گریز کرنا چاہیے اور اتحاد کی ایران کے حمایت یافتہ حوثی شیعہ باغیوں کے خلاف جنگی کامیابیوں کو برقرار رکھنے میں معاونت کرنی چاہیے۔

اقوام متحدہ کے مطابق یمن کے دوسرے بڑے شہر اور صدر عبد ربہ منصور ہادی کی قیادت میں حکومت کے عارضی دارالحکومت عدن میں حکومت نواز فورسز اور جنوبی یمن کے علاحدگی پسندوں کے درمیان گذشتہ ہفتے جھڑپوں میں کم سے کم چالیس افراد ہلاک اور دو سو ساٹھ زخمی ہوگئے تھے۔یمنی حکومت نے ایس ٹی سی کےساتھ اس کے سرکاری عمارتوں سے انخلا تک بات چیت سے انکار کردیا تھا۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں