عراق : نینوی صوبے میں خامنہ ای کا دفتر بچوں کی بھرتی اور برین واشنگ کا ذمے دار

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
4 منٹس read

عراق میں بعض ذرائع نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا ہے کہ ایسا معلوم ہو رہا ہے کہ عراق میں "سہل نینوی" کا علاقہ "ایرانی بستی" میں تبدیل ہو چکی ہے۔

یہاں نوجوانوں اور بچوں اور نوجوانوں کی تعلیم کے لیے ایرانی مکاتب پھیل گئے ہیں۔ ان کے علاوہ علاقے میں ایرانی مرشد اعلی کے نام سے ایک اسکول بن بنایا گیا ہے۔

بعض عراقی سیاست دانوں نے سہل نینوی میں شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے زیر انتظام کیمپوں میں ایرانی پاسداران انقلاب کے عناصر کی موجودگی کی شکایت کی ہے۔ ان کے علاوہ علاقے میں منظم طور پر خمینی ، خامنہ ای اور ایرانی قونصل جنرل کی تصاویر بھی پھیلائی گئی ہیں۔ سہل نینوی عراق کے شمالی صوبے نینوی میں واقع ایک جغرافیائی علاقہ ہے۔

سہل کا علاقہ عراق کے کئی نسلی فرقوں کے لیے تاریخی مقام کی حیثیت رکھتا ہے۔ ان میں سنی عرب، کرد، ترکمان، یزیدی، مسیحی اور یارسانی شامل ہیں۔

داعش تنظیم کے قبضے سے آزاد کرائے جانے کے بعد گذشتہ تین برسوں کے دوران سہل نینوی کا علاقہ ایک ایرانی بستی کی سی صورت اختیار کر گیا ہے کیوں کہ ایران یہاں اپنے وجود کو مضبوط بنانے کی کوشش میں ہے۔ بالخصوص یہ موصل میں امریکی اڈوں سے قریب ترین پوائنٹ شمار کیا جاتا ہے۔

عراقی فوج اور انسداد دہشت گردی کے ادارے کے ہاتھوں سہل نینوی کو آزاد کرانے کے آپریشن کے بعد ایران کی ہمنوا الحشد الشعبی ملیشیا نے علاقے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔ اس دوران دہشت گردی کے نام پر علاقے کے بہت سے لوگوں کو گرفتار کر لیا گیا۔ اسی طرح اس ملیشیا نے لوگوں سے جبری چندہ وصول کر کے وہ رقم ایران منتقل کر دی۔

اس حوالے سے متنازع علاقوں میں عرب قبیلوں کے سرکاری ترجمان مزاحم الحویت نے بتایا کہ سہل نینوی میں ایرانی مرشد اعلی علی خامنہ ای کے دفتر کی سربراہی شیخ حسن الشبکی کے پاس ہے۔ اس سلسلے میں انہیں اپنے معاون قصی عباس الشبکی کی معاونت حاصل ہے۔ الحویت نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں باور کرایا کہ اس دفتر کا مقصد بچوں کو بھرتی کر کے انہیں ولایت فقیہ کے اسلوب پر تعلیم دینا اور ان کے ذہنوں میں شدت پسندی کی سوچ کے بیج بونا ہے۔

الحویت کے مطابق بازوایا کے علاقے میں واقع اس دفتر کا مشن نوجوانوں کی برین واشنگ کرنا اور ان کے ذہنوں میں یہ بات پیوست کر دینا ہے کہ خامنہ ای ہی نجات دہندہ ہے۔ انہوں نے اس امر کی تصدیق کی کہ برطلہ اور الحمدانیہ میں بریگیڈ 30 کے کیمپ میں ایرانی پاسداران انقلاب ، ایرانی انٹیلی جنس اور باسیج فورس کے اہل کار موجود ہیں۔

قبائلی ترجمان نے باور کرایا کہ خامنہ ای کا دفتر طلبہ کو ایران منتقل کرتا ہے جہاں وہ لڑائی کی اور قتل کی کارروائیوں کے علاوہ ضرورت پڑنے پر خود کو دھماکے سے اڑا دینے کی تربیت بھی حاصل کرتے ہیں۔

مزاحم الحویت نے زور دے کر بتایا کہ سہل نینوی کے متعدد علاقوں میں ایرانیوں کی موجودگی اعلانیہ صورت میں نظر آنے لگی ہے۔

الحویت نے ایران پر الزام عائد کیا کہ وہ انسانی امداد پیش کرنے کی آڑ میں علاقے کے لوگوں کے ابتر معاشی حالات کا استحصال کرتے ہوئے بچوں اور اور جوانوں کو ملیشیاؤں کی صفوں میں بھرتی کر رہا ہے۔ حسن الشبکی کے بدنام زمانہ ایرانی کمانڈر قاسم سلیمانی کے ساتھ بہت مضبوط تعلق ہے اور وہ براہ راست سلیمانی کے احکامات وصول کر کے ایرانی کمانڈر کو نینوی میں مطلوب امر پر عمل درامد کرتا ہے۔

دوسری جانب نینوی صوبے کی کونسل کے رکن حسن السبعاوی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے گفتگو میں خامنہ ای کے دفتر کے حوالے سے ہونے والی سرگرمیوں پر حیرت کا اظہار کیا۔ انہوں نے زور دیا کہ عراق میں سنی اور شیعہ سیاست دانوں کو اپنے ملک کی وفاداری تک محدود رہنا چاہیے ،،، یہ نہیں کہ ان میں کچھ لوگ ایران کے ساتھ اور کچھ لوگ ترکی کے ساتھ جا کھڑے ہوں۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں