.

الحشد الشعبی کے سربراہ کا اپنے نائب کے امریکا مخالف الزامات سے اظہارِ لاتعلقی

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق کی پیراملٹری فورس الحشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض امریکا کے خلاف اپنے نائب کے الزامات سے دستبردار ہوگئے ہیں۔ان کے نائب نے امریکا پر یہ الزام عاید کیا تھا کہ الحشد الشعبی کی تربیت گاہوں اور اڈوں پر حالیہ بم دھماکوں میں امریکا کا ہاتھ کارفرما ہے۔

فالح الفیاض نے جمعرات کو ایک بیان میں کہا ہے کہ تحقیقات کاروں نے ابھی گذشتہ ماہ الحشد الشعبی کے چار تربیتی مراکز اور اسلحہ ڈپوؤں پر بم حملوں میں ملوّث عناصر کا تعیّن نہیں کیا ہے۔

انھوں نے عراقی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کے ساتھ بدھ کی رات ایک ہنگامی ملاقات کے بعد یہ بیان جاری کیا ہے۔ انھوں نے کہا:’’ ابتدائی تحقیقات سے یہ پتا چلا ہے کہ ان واقعات میں کوئی بیرونی ہاتھ کارفرما ہے اور یہ کارروائی باقاعدہ طے شدہ منصوبہ بندی کے تحت انجام دی گئی تھی۔اس کے ذمے داروں کی ٹھیک ٹھیک شناخت تک تحقیقات جاری رہے گی اور پھر کوئی مناسب موقف اختیار کیا جائے گا۔‘‘

ان کے اس بیان سے چندے قبل الحشد الشعبی کے نائب سربراہ ابو مہدی المہندس نے سیدھے سبھاؤ امریکا پر ان حملوں کا الزام عاید کیا تھا۔ وہ امریکا مخالف بیانات داغنے کے لیے مشہور ہیں اور اسی وجہ سے امریکا نے انھیں دہشت گرد قرار دے کر بلیک لسٹ کردیا تھا۔

ابو مہدی المہندس نے اپنے بیان میں کہا کہ‘‘ ہم یہ اعلان کررہے ہیں جو کچھ ہوا ہے اور آج کے بعد جو کچھ ہوگا، ،اس کی پہلی اور آخری ذمے دار امریکی فورسز ہیں۔‘‘

انھوں نے الزام عاید کیا کہ ’’یہ حملے ’’ایجنٹوں‘‘ نے کیے تھے یا جدید طیاروں کے ذریعے خصوصی کارروائی کی گئی تھی۔‘‘ تاہم انھوں نے اس کی مزید تفصیل نہیں بتائی تھی۔

فالح الفیاض نے ان کے اس بیان سے لا تعلقی کا اظہار کیا ہے اور کہا ہے کہ یہ الحشد الشعبی کے سرکاری موقف کا نمایندہ نہیں ہے۔

واضح رہے کہ شیعہ ملیشیاؤں اور بعض سُنی قبائل پر مشتمل الحشد الشعبی کی تشکیل میں ایران نے اہم کردار ادا کیا تھا،پھر اس کو تربیت بھی ایرانی اہلکاروں ہی نے دی تھی۔ اس نیم فوجی فورس نے عراق میں سخت گیر جنگجو گروپ داعش کے خلاف جنگ میں ہم کردار ادا کیا تھا۔

تجزیہ کاروں کا کہنا ہے کہ اس کے سرکردہ اعلیٰ کمانڈوں کے ایک دوسرے سے مختلف بیانات اس گروپ میں پائی جانے والی گہری خلیج کے بھی آئینہ دار ہیں۔ امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان نے بدھ کو ایک بیان میں عراق میں بم دھماکوں میں کسی قسم کے کردار کی تردید کی تھی۔