.

شام: حلب میں ترکی کے ہمنوا گروپوں کی کُرد عناصر کے ساتھ جھڑپیں

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام میں بشار کی حکومت نے جمعرات کی صبح حماہ کے شمالی اور ادلب کے جنوبی دیہی علاقوں میں شہریوں کے باہر نکلنے کے لیے "محفوظ گزر گاہیں" کھولنے کا اعلان کیا۔

شامی حکومت کی سرکاری خبر رساں ایجنسی SANA کے مطابق مذکورہ علاقوں سے راہ داریوں کے ذریعے باہر نکلنے والے شہریوں کے ٹھکانے، خوراک اور طبی دیکھ بھال کے حوالے سے تمام ضروریات پوری کرنے کو یقینی بنایا جائے گا۔

ادھر شام میں انسانی حقوق کے سب سے بڑے نگراں گروپ المرصد کے مطابق حلب کے دیہی علاقے کی شمالی پٹی میں واقع محاذوں پر کرد فورسز اور ترکی کے حمایت یافتہ گروپوں کے درمیان تقریبا روزانہ کی بنیاد پر جھڑپیں دیکھی جا رہی ہیں۔

المرصد نے تصدیق کی ہے کہ بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب حلب کے شمال میں واقع شہر اعزاز کے مغرب میں مرعناز کے محاذ پر فریقین کے درمیان جھڑپیں ہوئیں۔

رواں ماہ 19 اگست کو حلب کے مشرق میں واقع شہر الباب کے مغرب میں حزان کے محاذ پر کرد فورسز اور ترکی کے ہمنوا مسلح گروپوں کے درمیان شدید جھڑپیں بھڑک اٹھی تھیں۔ اس دوران فریقین کی جانب سے بھاری اور درمیانے ہتھیاروں کا استعمال ہوا۔

شامی حکومت کی فورسز نے ادلب صوبے کے جنوبی حصوں میں اپوزیشن کے زیر کنٹرول متعدد شہروں اور دیہات کے علاوہ ترکی کی فوج کے ٹھکانے کا محاصرہ کر لیا۔

شام کے شمال مغربی صوبے میں بشار کی فوج کی تیزی کے ساتھ پیش قدمی کو ادلب میں باقی اپوزیشن کے آخری گڑھ میں ایک کاری ضرب شمار کیا جا رہا ہے۔ یہ صوبہ گذشتہ تین ماہ سے بشار کی حکومتی فورسز کے حملوں کی زد میں ہے۔ ادلب صوبے میں تقریبا 30 لاکھ لوگ رہتے ہیں جن پر بشار کی فوج کئی ماہ سے گولہ بارود کی آگ برسا رہی ہے۔

شامی اپوزیشن کے کارکنان کے مطابق بشار کی فوج نے بدھ کی سہ پہر خان شیخون قصبے پر مکمل کنٹرول حاصل کر لیا۔

بشار کی فوج ادلب کے علاوہ حماہ صوبے کے شمالی حصوں پر رواں سال 30 اپریل سے حملے کر رہی ہے۔ اس امر نے تقریبا پانچ لاکھ افراد کو ملک کے انتہائی شمال میں زیادہ محفوظ علاقوں کی جانب فرار ہونے پر مجبور کر دیا۔ اس دوران لڑائی کے نتیجے میں دو ہزار کے قریب افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جن میں سیکڑوں شہری شامل ہیں۔

بدھ کے روز بشار کی فوج نے خان شیخون قصبے کے مشرق میں ترعی کے ٹیلے پر قبضہ کر لیا اور مغرب کی سمت پیش قدمی جاری رکھی۔ اس طرح ملک کے وسطی صوبے حماہ میں شامی اپوزیشن کے زیر کنٹرول شہر اور دیہات اب محاصرے میں آ گئے ہیں۔ اسی طرح موریک قصبے میں ترکی کی فوج کی نگرانی چیک پوسٹ بھی محصور ہو چکی ہے۔ ادلب اور اس کے اطراف ترکی کی 12 نگرانی چیک پوسٹیں ہیں۔ یہ چیک پوسٹیں گذشتہ برس بشار حکومت کو سپورٹ کرنے والے روس کے ساتھ طے پانے والے ایک معاہدے کی رُو سے قائم کی گئیں۔