.

اسکول واپسی مہم : یمن میں لوٹ مار کے لیے حوثیوں کا نیا حربہ

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں تعلیم کے شعبے کو بڑے چیلنجوں اور خطرات کا سامنا ہے۔ بالخصوص حوثی ملیشیا کے زیر قبضہ علاقوں میں جہاں آئینی حکومت کا تختہ الٹے جانے کے بعد سے حوثی باغی تعلیم کو فرقہ واریت اور نسل پرستی کی بھٹی میں جھونکنے کے درپے ہیں۔

حوثی ملیشیا نے کچھ عرصہ قبل اپنے زیر کنٹرول وزارت تعلیم کے ذریعے "العودة إلى المدارس" (اسکولوں کو واپسی) کے نام سے ایک مہم کا آغاز کیا۔ اس کا مقصد اُن کوششوں کے ذریعے مالی سپورٹ حاصل کرنا ہے جن کو ملیشیا نے یمنی بچوں کی اسکولوں کو واپسی کے واسطے سرکاری کاوشیں قرار دیا ہے۔

عربی روزنامے الشرق الاوسط کے مطابق محکمہ تعلیم کے ذرائع نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا نے حسب عادت کچھ عرصہ قبل بعض پرگراموں اور مُہموں کا آغاز کیا ہے۔ ان کا حقیقی مقصد اپنی جنگوں کی فنڈنگ کے واسطے لوٹ مار اور خطیر رقوم اکٹھا کرنا ہے جب کہ ظاہری ہدف اپنے زیر کنٹرول علاقوں میں تعلیم کو سپورٹ کرنا ہے۔

صنعاء میں محکمہ تعلیم کے ایک ذمے دار نے "العودہ" مہم کا تمسخر اڑاتے ہوئے استفسار کیا کہ حوثی ملیشیا کن اسکولوں کی بات کر رہے ہیں جہاں پر طلبہ تعلیم کے حصول کے لیے واپس آئیں؟ ... "کیا ملیشیا نے اسکولوں کو درست حال پر چھوڑا ہے تا کہ طلبہ وہاں صحیح تعلیم حاصل کر سکیں؟".

مذکورہ ذمے دار نے نام ظاہر نہ کرتے ہوئے کہا کہ حوثی ملیشیا نے اپنے زیر قبضہ علاقوں کو جہنم میں تبدیل کر دیا ہے جہاں ہر آنے والے سال کے ساتھ تعلیم ناپید ہوتی جا رہی ہے۔ ذمے دار کے مطابق یمن میں بقیہ ماندہ تعلیم اور تعلیمی عمل کے خاتمے کے لیے حوثی ملیشیا کی مجرمانہ کارروائیوں کا سلسلہ جاری ہے۔ ملیشیا اس ایجنڈے پر عمل پیرا ہے کہ یمنی طرز فکر اور شناخت کو منظم فرقہ وارانہ ایرانی سوچ کے ساتھ بدل دیا جائے۔

اس حوالے سے یمن کی ایک خاتون ماہر تعلیم ڈاکٹر وسام باسندوہ کا کہنا ہے کہ حوثی ملیشیا نے اسکولوں کی 80 % عمارتیں تباہ کر ڈالی ہیں جو اب یمن میں تعلیمی عمل کے دائرہ کار سے خارج ہیں۔ انہوں نے یہ بات قاہرہ میں "عرب دنیا میں تعلیم اور موجودہ چیلنجز" کے نام سے منعقد سیمینار میں پیش کیے گئے اپنے ایک تحقیقی مقالے میں کہی۔

صنعاء پر کنٹرول ، ریاست اور اس کے اداروں میں انقلاب اور تعلیمی اداروں سمیت ریاست کے تمام اداروں پر قبضے کے بعد حوثی ملیشیا نے اپنے فرقہ وارانہ ایجنڈے کے ابتدائی اقدامات پر عمل درامد شروع کیا۔ اس دوران ترامیم اور نئے اقدامات سے متعلق فیصلے جاری ہوئے جنہوں نے تعلیم نصاب کو بھی لپیٹ میں لے لیا۔

صنعاء میں اساتذہ کے مطابق ایران نواز حوثی ملیشیا کی نئی ترامیم میں یمنی تاریخ کے اندر وسیع تحریف شامل ہے۔ اس تحریف کا مقصد اماموں کی حکمرانی کے نظام کو مقدس بنا کر پیش کرنا ہے۔

ادھر یمن کے علماء کی کمیٹی اور تعلیم سے متعلقہ دیگر یمنی تنظیموں نے حوثی ملیشیا کے ہاتھوں تعلیمی نصابوں میں تبدیلی سے خبردار کیا ہے۔ انہوں نے کہا کہ اسکولوں کے طلبہ کے ذہنوں میں نسل پرستی اور فرقہ واریت پر مبنی ثقافت و افکار کے ذریعے زہر گھولا جا رہا ہے۔

تعلیم کے شعبے کے خلاف حوثی ملیشیا کے جرائم کے نتیجے میں ہزاروں اساتذہ اپنے اسکولوں سے محروم ہو چکے ہیں کیوں کہ حوثی حکام نے تقریبا 3 برسوں سے ان اساتذہ کی تنخواہیں اور مالی واجبات کو روکا ہوا ہے۔

تعلیم کے شعبے سے متعلق ایک انجمن کی تازہ رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ یمن میں 4 سال سے جاری جنگ کے دوران ایران نواز حوثی ملیشیا کے ہاتھوں تعلیمی سیکٹر میں کام کرنے والے 1500 افراد اپنی جانوں سے ہاتھ دھو بیٹھے جب کہ 2400 کے قریب زخمی ہوئے۔ ان میں مرد اور خواتین اساتذہ شامل ہیں۔

رپورٹ میں 32 اساتذہ کی گمشدگی کی تصدیق کی گئی ہے جن کو حوثی ملیشیا نے ان کے گھروں اور اسکولوں سے اغوا کیا۔ بعد ازاں ان میں سے کسی ایک فرد کو بھی نہیں دیکھا گیا۔ حوثیوں نے 2014 کی بغاوت کے بعد سے صعدہ، عمران، حجہ اور صںعاء صوبوں میں اساتذہ کے 44 گھروں کو منہدم کر کے اس اراضی کو ہموار کر دیا۔ رپورٹ کے مطابق یمن میں تعلیمی سیکٹر میں کام کرنے والے کل 2.9 لاکھ افراد میں سے 60 فی صد ملازمین کو تین برس سے تنخواہیں نہیں ملیں۔ حوثیوں نے ان افراد کی تنخواہوں کو لوٹ کر یہ رقم اپنی جنگ اور اس میں مصروف کارندوں پر خرچ کر دی۔

دوسری جانب مقامی مبصرین نے باور کرایا ہے کہ حوثی ملیشیا کی جانب سے اپنے زیر قبضہ علاقوں میں واقع اسکولوں کو مجمع اکٹھا کرنے اور لڑائی کے محاذوں کی سپورٹ کے واسطے استعمال کرنے کا سلسلہ جاری ہے۔

انسانی حقوق کی رپورٹوں کے مطابق باغیوں کے علاقوں میں حالیہ عرصے میں بچوں کو بھرتی کرنے کے رجحان میں ریکارڈ حد تک دو گنا اضافہ ہوا ہے۔ انسانی حقوق کے مرکز کا کہنا ہے کہ یمن میں جنگجوؤں میں ایک تہائی تعداد بچوں کی ہے جن میں جبری بھرتیاں بھی شامل ہیں۔

اقوام متحدہ کی تازی ترین رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ یمن میں بچوں کو بھرتی کرنے کی شرح میں 5 گنا اضافہ ہوا ہے۔ دہشت گرد حوثی ملیشیا ان بچوں کو مختلف محاذوں پر جنگ کے ایندھن کے طور پر استعمال کر رہی ہے۔