ایرانی عدالت سے صحافیہ کوساڑھے 10 سال قید، 184 کوڑوں کی سزا

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:
مطالعہ موڈ چلائیں
100% Font Size
دو منٹ read

ایران کی ایک انقلاب عدالت نے ایرانی رجیم کے جرائم سے پردہ اٹھانے کی پاداش میں صحافیہ مرضیہ امیری کو ساڑھے 10 سال قید اور ایک سو 84 کوڑوں کی سزا کا حکم دیا ہے۔ صحافیہ کا قصور یہ ہے کہ اس نے مزدوروں کے عالمی دن کے موقع پر ایران میں ہونے والے حکومت مخالف مظاہروں کی کوریج کی تھی۔

مرضیہ امیری کی ہمشیرہ سمیرہ نے 'ٹویٹر' پر پوسٹ کردہ ایک بیان میں بتایا کہ اس کی بہن کو کم سے کم چھ سال قید کی ہوگی۔

خیال رہے کہ ایرانی پاسداران انقلاب نے مرضی امیری کو یکم مئی 2019ء کو ایران میں ہونے والے مظاہروں کےبعد حراست میں لے کر'ایفین' جیل منتقل کردیا تھا۔ اس کے اہل خانہ اور وکلاء کو ملنے کی اجازت بھی نہیں دی گئی۔

اس کے ساتھیوں کا کہنا ہے کہ مرضیہ ایرانی پارلیمنٹ کے باہر جمع ہونے والے مظاہرین کی کوریج کررہی تھی۔ اس دوران سادہ کپڑوں میں ملبوس اہلکاروں نے خود کو پولیس اہلکار ظاہر کرکے اسے حراست میں لے لیا تھا جس کے بعد اسے نامعلوم مقام پر منتقل کردیا گیا۔ مرضیہ امیری فارسی میں شائع ہونے والے اخبار'شرق' کے ساتھ منسلک ہیں۔

اخبار کی طرف سے جاری ایک بیان میں اپنی نامہ نگار مرضیہ امیری کی گرفتاری پر افسوس کا اظہارت کرتے ہوئے کہا ہے کہ وہ اس گرفتاری کا جائزہ لے رہے ہیں۔ اخباری رپورٹ کے مطابق مرضیہ امیری کو یکم مئی کو دن 11 گیارہ بجے گرفتار کرکے نامعلوم مقام پرمنتقل کردیا گیا تھا۔

انسانی حقوق کی تنظیموں کے مطابق یکم مئی کو ایران میں ہونے والے مظاہروں کے دوران پولیس نے 35 افراد کو حراست میں لے لیا تھا۔ پاسداران انقلاب کے جلادوں نے گرفتار کیے گئے مزدورں پر وحشیانہ جسمانی تشدد کیا ہے۔

ایران میں انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے اداروں کی ترجمان نیوز ایجنسی'ہرانا' کے مطابق یکم مئی کو ایرانی سیکیورٹی فورسز سے جن لوگوں کو حراست میں لیا گیا ان میں بیشتر عام مزدور طبقہ لوگ شامل تھے۔ وہ سب پرامن اور نہتے تھے اور اپنے معاشی حقوق کے لیے احتجاج کررہے تھے۔

مقبول خبریں اہم خبریں

مقبول خبریں