.

اردن کی وادی بقاع میں پاپولر فرنٹ اسرائیل کے نشانے پر کیوں؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

اسرائیل کی طرف سے عراق، شام اور لبنان میں کیے گئے تازہ حملوں مشرق وسطیٰ میں سلامتی کے نئے مسائل پیدا کر دیے ہیں۔ اسرائیلی فوج نے اتوار اور سوموار کی درمیانی شب لبنان کی وادی بقاع میں مشرقی پہاڑی علاقوں میں تین مقامات پر بمباری کی۔ اسرائیلی جنگی طیاروں نے جرود، قوسیا اور شہر کے مغربی عالقے زحلہ میں احمد جبریل کی قیادت میں فلسطینی پاپولر فرنٹ کے عسکری مراکز کو نشانہ بنایا گیا۔

قوسیا کے میئر داود کعدی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ سے بات کرتے ہوئے کہا کہ اسرائیلی جنگی طیاروں نے پاپولر فرنٹ کے مراکز پر مرحلہ وار کئی میزائل برسائے۔ تنظیم کی طرف سے صہیونی ریاست کے طیاروں پر جوابی فائرنگ کی گئی۔

یہ بمباری ایک ایسے وقت میں کی گئی ہے گذشتہ چوبیس گھںٹوں کے دوران لبنان کے جنوبی علاقے میں شیعہ ملیشیا حزب اللہ کے مراکز دو بمبار ڈرون طیاروں کی مدد سے حملہ کیا گیا۔ حزب اللہ نے اسرائیل پر فضائی حدود کی خلاف ورزی اور بمباری ڈرون کے ذریعے جارحیت مسلط کرنے کا الزام عاید کیا ہے۔

مالی نقصان

داود کعدی نے ایک سوال کے جواب میں کہا کہ انہوں نے قوسیا میں پاپولرفرنٹ کی قیادت سے رابطہ کیا ہے۔ فلسطینی تنظیم کی طرف سے بتایا گیا ہے کہ اسرائیلی طیاروں کی بمباری کے نتیجے میں عسکری مراکز کو مادی نقصان پہنچا ہے تاہم کسی قسم کا جانی نقصان نہیں ہوا۔

پاپولرفرنٹ کی قیادت کا کہنا ہے کہ اسرائیلی جنگی طیاروں کی بمباری غزہ کی پٹی سے اسرائیل پر داغے گئے میزائل کا رد عمل ہوسکتا ہے۔
پاپولر فرنٹ کے رہ نمائوں کا کہنا ہے کہ اسرائیلی فوج نے کفر زبد، ماسا، قوسیا اور دیگر مقامات پر بھی بمباری کی تاہم اس بمباری کے نتیجے میں کوئی جانی نقصان نہیں ہوا ہے۔

اسرائیل پر جنگ چھیڑنے کا الزام

زحلہ شہر کے رکن پارلیمنٹ جارج عقیص نے 'العربیہ ڈاٹ نیٹ' سے بات کرتے ہوئے کہا یہ پہلا موقع نہیں کہ اسرائیل نے لبنان میں پاپولر فرنٹ کے مراکز بمباری کی ہے مگر سب سے افسوسناک اور تشویشناک پہلو یہ ہے کہ اب کی بار صہیونی ریاست ایک سوچے سمجھے منصوبے کے تحت پورے خطے کو جنگ کی چتا میں دھکیلنا چاہتا ہے۔ یہ سارا ڈراما ایک ایسے وقت میں رچایا جا رہا ہے کہ آئندہ ماہ اسرائیل میں پارلیمانی انتخابات ہو رہے ہیں۔ اسرائیل کا حکمران طبقہ انتخابات میں کامیابی کے لیے زیادہ سے زیادہ ووٹ حاصل کرنے کے لیے اشتعال انگیزی کر رہا ہے۔

عقیص جو لبنانی فورسز بلاک کے رکن پارلیمنٹ ہیں، کا کہنا ہے کہ ہمیں اسرائیل کے منصوبوں کو آگے بڑھانے کے لیے لبنان کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دینی چاہیے۔ ہمیں لبنان کو جنگ سے بچانا ہوگا۔ اگر جنگ چھڑتی ہے تو اس کے نتیجے میں لبنانی معیشت تباہ ہوسکتی ہے۔

اسرائیل حزب اللہ کی دھمکیوں سے مرعوب نہیں ہوگا

لبنانی رہ نما عقیص کا کہنا ہے کہ پاپولر فرنٹ کے مراکز پر بمباری کو خطے میں ایران اور حزب اللہ کی پالیسی کا رد عمل قرار دیا جا سکتا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ حزب اللہ کے سربراہ حسن نصراللہ نے متعدد بار اسرائیل کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دی ہیں مگر صہیونی ریاست کو حزب اللہ کی دھمکیوں کی کوئی پرواہ نہیں۔

شام اور اسلحہ اسمگلنگ کی سرنگیں

خیال رہے کہ احمد جبریل کی قیادت میں قائم فلسطینی پاپولر فرنٹ کے لبنان کی وادی البقاع میں شام کی سرحد پر متعدد مراکز موجود ہیں۔ وادی البقاع کے عقب میں کفر زبد قصبہ واقع ہے۔ یہ پہاڑی علاقہ ہے جہاں شام اور لبنان کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں۔ مغربی وادی بقاع، قوسیا، عین البیضا، دیر زنون، المعیصرہ، وادی حشمش، لوسی جبیلہ، السلطان یعقوب اور الفاعور کے علاقے واقع ہیں۔ یہ تمام پہاڑی علاقے اور پیچیدہ مقامات کہلاتے ہیں۔

فلسطینی پاپولر فرنٹ کے شامی ملٹری انٹیلی جنس کے ساتھ براہ راست روابط قائم ہیں اور یہ تنظیم شامی رجیم کے اشاروں پر چلتی ہے۔ یہ تنظیم نہ صرف لبنان اور شام کی سرحد پر مضبوط مراکز قائم کیے ہوئے بلکہ دونوں ملکوں کے اندر بھی یہ تنظیم پھیلی ہوئی ہے۔

اگرچہ قوسیا میں پاپولر فرنٹ کے مراکز اسرائیل سے ہزاروں کلو میٹر کی مسافت پر ہیں۔ یہ سوال اپنی جگہ موجود ہے کہ آیا اسرائیل کو ہزاروں کلو میٹر دور فلسطینی تنظیم کے مراکز کو نشانہ بنانے کا کیا فائدہ حاصل ہوگا۔ تاہم یہاں پر قائم پاپولر فرنٹ کے مراکز میں بھاری توپخانے، ٹینک، بھاری میزائل اور دیگر تباہ کن اسلحہ شامل ہے۔ یہاں پر زیر زمین سرنگوں کا ایک وسیع نیٹ ورک موجود ہے جس کے راستے سے شام اور لبنان میں اسلحہ اسمگل کیا جاتا ہے۔ شاید یہی وجہ ہے کہ اسرائیل نے ہزاروں میل دور ایران فلسطینی تنظیم کے مراکز کو نشانہ بنایا ہے۔