.

شام کی سرحد پر ڈرون حملے میں عراقی شیعہ ملیشیا کے دو جنگجو ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

العربیہ چینل کے ذرائع کے مطابق شام کی سرحد پر عراقی شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے دو جنگجو دو الگ الگ ڈورن حملوں میں ہلاک ہوگئے ہیں۔

'العربیہ' کے نامہ نگار کے مطابق شام کی سرحد پر ڈرون حملے میں ہلاک ہونے والے الحشد ملیشیا کے ایک کمانڈر کی شناخت ابو علی الدبی کے نام سے کی گئی ہے۔ یہ ڈرون حملہ جنوبی سرحد پر القائم شہر میں کیا گیا۔

ڈورن طیاروں کی مدد سے الحشد ملیشیا کے بریگیڈ 45 کی دو پک اپ گاڑیوں کو نشانہ بنایا گیا۔ خیال رہے کہ عراق میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا الحشد کے خلاف گذشتہ کچھ عرصےسے نامعلوم طیاروں کے حملوں کا سلسلہ جاری ہے۔

حال ہی میں عراقی حزب اللہ کے ایک اسلحہ گودام پر نامعلوم ڈرون طیارے کی مدد سے بمباری کرکے اسےتباہ کردیا گیا تھا۔

عراقی حزب اللہ کے اسلحہ کے مراکز پرحملوں میں اسرائیل کو ملوث قرار دیا جاتاہے۔ اسرائیل نےبھی ان حملوں کی ذمہ داری قبول کرنے کا عندیہ دیا ہے۔

تباہ ہونےوالا اسلحہ گودام صلاح الدین گورنری میں بلد فضائی اڈے پرقائم تھا۔ گودام میں ہونے والے دھماکوں کے نتیجے میں متعدد افراد ہلاک اور زخمی ہوئے ہیں۔

ذرائع کا کہنا ہے کہ ایران سے لائے گئے اسلحہ کے گودام پر تین میزائل گرائے گئے۔ یہ اسلحہ عراق کی الحشد شیعہ ملیشیا کے لیے بھیجا گیا تھا۔

گذشتہ روز شام اور لبنان میں بھی اسرائیل کی طرف سے حملے کیے جانے کی اطلاعات ہیں۔ اسرائیل کےدو ڈرون طیارے گذشتہ روز لبنان میں گرکرتباہ ہو گئے۔ ایک خود کش بمبار ڈرون جنوبی بیروت میں حزب اللہ کے ایک مرکز پرجا گرا جس کے نتیجے میں بڑے پیمانے پر جانی اور مالی نقصان ہوا ہے۔Matrice 600 طرز کےچھوٹے ڈرون طیارے میں اڑھائی کلو گرام بارود نصب کیا گیا تھا۔