.

عراقی ملیشیا الحشد الشعبی اسرائیل کے زیرِ عتاب

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراق میں گذشہ چند روز کے دوان وسیع تنازع کی صورت حال دیکھی جا رہی ہے۔ اس صورت حال نے شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی کے کئی ٹھکانوں کو نشانہ بنائے جانے کے بعد جنم لیا ہے۔ متعدد رپورٹوں اور دو روز قبل خود اسرائیلی وزیراعظم کے عندیے کے مطابق اس کارروائی میں اسرائیل کا ہاتھ ہے۔ اس کی وجہ مذکورہ ملیشیا کا ایران کا وفادار ہونا ہے خواہ وہ عراق، شام اور یہاں تک کہ لبنان میں ہو۔

یہ معاملہ اسرائیل کی جانب سے عراق کے مختلف مقامات پر الحشد الشعبی ملیشیا کے اسلحہ ڈپوؤں پر حملے تک محدود نہ رہا ،،، بلکہ پیر کے روز قابل ذکر پیش رفت یہ ہوئی کہ عراق میں شام کی سرحد کے نزدیک بالخصوص القائم کے علاقے میں الحشد الشعبی ملیشیا کی قیادت کو نشانہ بنایا گیا۔ الحشد کے یہ رہ نما دو گاڑیوں میں سوار تھے۔ اس حملے کے نتیجے میں الحشد الشعبی ملیشیا میں حزب اللہ کے لیے لوجسٹک سپورٹ کا ذمے دار کاظم علی محسن عُرف ابو علی الدبیابو ہلاک اور اس کا ایک ساتھ شدید زخمی ہو گیا۔

گذشتہ دو ماہ کے میں اس نوعیت کے حملوں کی تعداد 5 ہو گئی ہے جس نے الحشد کے اندر انقسام پیدا کر دیا ہے۔ الحشد الشعبی ملیشیا کے نائب سربراہ ابو مہدی انجینئر نے اسرائیل اور امریکا کو براہ راست ذمے دار ٹھہرایا ہے .. جب کہ الحشد الشعبی کے سربراہ فالح الفیاض نے اسے ابو مہدی کا ذاتی موقف شمار کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ الحشد الشعبی یا عراقی حکومت کا موقف نہیں ہے۔

مسلح جماعتوں کے امور کے محقق اور اسٹریٹجک ماہر احمد الشریفی نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الحشد الشعبی کو اس وقت ایک بڑے چیلنج کا سامنا ہے بالخصوص ملیشیا کے ان گروپوں کو جو نظریاتی طور پر ایران کے ساتھ مربوط ہیں۔

الشریفی نے باور کرایا کہ الحشد الشعبی کی جانب سے جوابی کارروائی کا امکان کئی وجوہات کی بنا پر مفقود نظر آتا ہے۔ ان وجوہات میں اسرائیل اور عراق کے درمیان مقابلے کی لائن کا موجود نہ ہونا بھی ہے۔ لہذا اس سلسلے میں سیاسی جواب پر انحصار کرنا ہو گا۔

انہوں نے واضح کیا کہ امریکا عراق کے سرکاری اداروں کے تحفظ کا پابند ہے جب کہ واشنگٹن کے نقطہ نظر سے الحشد الشعبی کی حیثیت غیر سرکاری یا نیم سرکاری ہے۔

دسری جانب تزویراتی تجزیہ کار رعد ہاشم نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ الحشد الشعبی کی جانب سے جوابی کارروائی کی توقعات بغداد میں امریکی سفارت خانے کی سمت راکٹ داغنے کی حد تک محدود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ "یہ ایک آپشن ہے .. اس کے علاوہ دوسرا آپشن الحشد ملیشیا کے لیے ایرانی نصیحت ہے کہ وہ پرسکون رہیں اور سفارتی طریقوں کو اپنا کر عبدالمہدی کی حکومت پر دباؤ ڈالیں تا کہ وہ لبنان میں حزب اللہ کے سکریٹری جنرل حسن نصر اللہ سے بات کریں کہ وہ الحشد کی جانب سے حکومتی سفارت کاری اور عسکری جواب کو ممکن بنائیں یہاں تک کہ یہ کارروائی امریکی فوجی اڈوں کے خلاف ہو یا پھر سفارت خانے پر کیوں کہ اسرائیل پر براہ راست حملہ ممکن نہیں ہو گا۔

ہاشم نے واضح کیا کہ الحشد الشعبی کی صلاحیتیں بالخصوص ڈرون طیاروں اور فضائی لڑائی کے میدان میں محدود ہیں۔ اسرائیل کو اس میں بڑی برتری حاصل ہے اور اس موقع پر وفاداریاں کسی کام نہیں آتی ہیں۔

انہوں نے باور کرایا کہ آنے والے دن معلومات کی سطح اور الحشد کی قیادت کو نشانہ بنانے کی سطح پر حیرتوں سے بھرپور ہوں گے جب کہ عراقی حکومت اپنی خاموشی نہیں توڑے گی۔