.

عراق : شام کی سرحد کے نزدیک اسرائیل کے مبیّنہ تباہ کن ڈرون حملے کی تحقیقات

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

عراقی فوج نے شام کی سرحد کے نزدیک واقع علاقے میں اسرائیل کے مبیّنہ ڈرون حملے کی تحقیقات شروع کردی ہے۔سرحدی قصبے القائم کے نزدیک اتوار کو اس حملے میں نیم فوجی دستوں پر مشتمل الحشد الشعبی کا ایک جنگجو ہلاک اور ایک شدید زخمی ہو گیا تھا۔

اس ڈرون حملے میں الحشد الشعبی کے بریگیڈ 45 کے ایک ٹھکانے کو نشانہ بنایا گیا تھا۔عراقی فوج کے ترجمان یحییٰ رسول نے سوموار کو صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے کہا ہے کہ ’’اس حملے سے ہونے والے نقصانات کے تعیّن کے لیے تحقیقات شروع کردی گئی ہے۔‘‘

شیعہ گروپوں اور سنی قبائل سے تعلق رکھنے والے جنگجوؤں پر مشتمل الحشد الشعبی نے گذشتہ روز ایک بیان میں اسرائیل پر اس حملے کا الزام عاید کیا تھا اور اس نے کہا تھا کہ صہیونی فوج نے امریکا کے فضائی حصار میں عراقی علاقے میں دو ڈرونز سے یہ حملہ کیا تھا ۔

اس اسرائیلی حملے میں الحشد الشعبی کے بریگیڈ 45 کا لاجسٹیکل اسپورٹ چیف کاظم محسن مارا گیا تھا ۔وہ اس کے راکٹ اسکواڈ کا بھی رکن تھا اور ابو علی الدابی کے نام سے معروف تھا ۔ سوموار کو بغداد میں ان کی نماز جنازہ میں ہزاروں افراد نے شرکت کی ہے۔ان میں الحشد الشعبی کے پارلیمانی بلاک کے ترجمان احمدالاسدی بھی شامل تھے۔

انھوں نے الحشد کی جانب سے انٹرنیٹ پر شائع کردہ ایک ویڈیو پیغا م میں کہا کہ ’’ہم آیندہ دنوں میں پارلیمان کا ہنگامی اجلاس بلانے کے لیے کام کریں گے اور اس معاملے پر غور کے بعد کوئی مناسب فیصلہ کریں گے‘‘۔

واضح رہے کہ اس ڈرون حملے سمیت عراق میں حالیہ ہفتوں کے دوران میں الحشد الشعبی کے اڈوں پر متعدد دھماکے ہوئے ہیں یا انھیں ڈرون حملوں میں نشانہ بنایا گیا ہے لیکن کسی نے ان حملوں کی ذمے داری قبول نہیں کی تھی۔

عراقی حکومت نے ان میں سے بعض کی تحقیقات کی ہے ۔اس نے ایک ڈرون حملے کا سراغ لگایا تھا اور کہا تھا کہ ایک اور حملہ جان بوجھ کر کیا گیا تھا لیکن اس نے کسی خاص ملک یا گروہ کو ان حملوں کا مورد الزام نہیں ٹھہرایا تھا۔