.

لبنانی سیاحتی بحری جہاز کے مسافر چار گھنٹے خوف کا شکار کیوں رہے؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

جمعرات 8 اگست کو لبنان کے مقامی وقت کے مطابق صبح کے تین بجے ایک سیاحتی بحری جہاز کے مسافروں کو اس وقت پریشانی کا سامنا کرنا پڑا جب جہاز اپنی منزل مقصود کی طرف رواں دواں ہونے کے لیے تیار تھا۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق لبنانی سیاحتی بحری جہاز'ابو مرعی کروز AMG' یا orient queen کے مسافر صبح تین بجے سے سات بجے تک خوف اور دہشت کا شکار رہے۔

جہاز پر سوار سیاح یونان کے جزیرہ 'کوس' میں طویل دن پر سکون گذارنے کے بعد نصب شب کے قریب جہاز کی طرف لوٹنے لگے۔ اس جہاز کی اگلی منزل جزیرہ 'سانٹورنی' تھی اور جہاز کے بیرونی صحن میں ایک شام کی تقریب کے بعد سیاحوں کی آمد کا انتظار کیا جا رہا تھا۔

اچانک منظر تبدیل ہوگیا۔ ان میں سے ایک خاتون مسافر نے چلا کر کہا کہ 'کشتی رک گئی اور اب حرکت نہیں کر رہی'۔

جہاز سمندر میں رک گیا

کشتی کے سمندر میں رک جانے کی بات سچ تھی۔ یہ کشتی تین گھںٹے سمندر میں سفر کرنے کے بعد کھلے سمندر میں جا کر رک گئی تھی۔ جہاز کے عملے کی شک میں ڈالنے والی غیرمعمولی نقل وحرکت نے مسافروں کو مزید پریشان کر دیا۔ عملے نے جہاز کی سامنے کی طرف کی کھڑکیاں بند کر دیں۔ غیر معمولی شور شرابے کے باعث تمام مسافر بیدار ہوگئے۔ بیدار ہونے والا ہر مسافر پہلے تو یہ سمجھتا کہ جہاز ڈوبنے والا ہے۔

رطرف افراتفری کا عالم تھا۔ مسافر خوف اور پریشانی کےعالم میں ایک دوسرے سے سرگوشیوں میں مصروف تھے اور کسی کو جہاز کے رک جانے کی اصل وجہ معلوم نہیں تھی۔ عملے کی طرف سے مسافروں کی پریشانی دور کرنے کی کوشش کی گئی مگر مسافر اتنے زیادہ پریشان تھے کہ وہ مطمئن نہیں ہو رہے تھے۔ وہ بار بار عملے سے استفسار کرتے کہ انہوں نے جزیرہ کوس میں مسافروں کا 10 گھنٹے انتظار کیا تو جہاز میں مناسب مقدار میں ایندھن کیوں نہیں ڈلوایا گیا۔ ایک خاتون مسافر نے کہا کہ جہاز کے کپتان اور اس کے معاونین کی طرف سے مسافروں کو باقاعدہ طور پر کیوں نہیں بتایا گیا۔

جہازوں کی آمد ورفت

روکےگئے لبنانی سیاحتی جہاز کے ایک مسافر نے بتایا کہ وقت بہت آہستہ آہستہ گذر رہا تھا۔ میں نے جہاز کی پانچویں منزل پر موجود اپنے کمرے کی کھڑکی سے باہر نظر دوڑائی تو جہاز تیزی کے ساتھ ہمارے پاس سے آ جا رہے تھے۔ آخر کار صبح کی روشنی پھیل گئی اور ہمارا ڈرائونا خواب بھی ختم ہوا۔

ایک خاتون مسافر نے اگلی صبح بتایا کہ میں نے جہاز کے ایک عملے کو یہ کہتے سنا کہ جہاز پر لادے گئے غیرقانونی سامان کا تبادلہ کیا جا رہا تھا تاہم یہ تبادلے کی ڈیل میں کیش استعمال نہیں کیا گیا۔

ایک دوسرے مسافر نے کہا کہ مذکورہ جہاز کا مالک امریکی وزارت خزانہ کی طرف سے بلیک لسٹ ہونے کی وجہ سے شہرت حاصل کر چکا ہے۔ اس جہاز کے مالک کو حزب اللہ کے لیے منشیات کی اسمگلنگ اور کالا دھند سفید کرنے کے علاوہ دیگر غیر قانونی تجارت کی وجہ سے امریکا نے بلیک لسٹ کیا تھا۔

مسافروں کا کہنا ہے کہ جہاز کسی خرابی یا ایندھن کی کمی کی وجہ سے نہیں روکا گیا بلکہ اس پرلادا گیا غیرقانونی سامان کسی دوسرے جہاز پر منتقل کرنے کے لیے مسافروں کو چار گھنٹے انتظار کی اذیت میں رکھا گیا۔