.

یمن : شبوہ میں فائر بندی مستحکم کرنے کے لیے سعودی اماراتی مشترکہ کمیٹی کی تشکیل

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

یمن میں آئینی حکومت کو سپورٹ کرنے والے اتحاد کی فورسز کے سرکاری ترجمان کرنل ترکی المالکی کا کہنا ہے کہ اتحاد کی مشترکہ قیادت (شبوہ) صوبے میں تمام فریقوں کی جانب سے فائر بندی پر مستقل طور پر عمل پیرا ہونے کی اہمیت کو باور کراتی ہے۔

کرنل المالکی نے واضح کیا کہ اتحاد کی مشترکہ فورسز کی کمان شبوہ صوبے میں زمینی صورت حال کا مسلسل جائزہ لے رہی ہے۔ انہوں نے بتایا کہ اس سلسلے میں سعودی عرب اور امارات کی ایک مشترکہ کمیٹی بھی تشکیل دی گئی ہے جو (آج) پیر کی صبح سے کام شروع کر دے گی۔ کمیٹی حالات و واقعات کی درستی کے علاوہ (شبوہ اور اَبين) صوبوں میں فائر بندی کو مستحکم بنانے اور عدن صوبے میں تمام کوششوں اور اقدامات کی تکمیل کے لیے کام کرے گی۔

اتحادی فورسز کے ترجمان نے تمام فریقوں سے مطالبہ کیا کہ وہ دانش مندی کا مظاہرہ کرتے ہوئے قومی مفاد کو ترجیح دیں ... اور یمن میں انارکی اور شورش کی آگ بھڑکانے والی ایران نواز دہشت گرد حوثی ملیشیا اور دیگر تخریب کار تنظیموں کو مواقع فراہم نہ کریں۔

اس حوالے سے سعودی عرب کی وزارت خارجہ اور متحدہ عرب امارات میں خارجہ امور اور بین الاقوامی تعاون کی وزارت نے ایک مشترکہ بیان بھی جاری کیا ہے۔ بیان میں یمن کے عبوری دارالحکومت عدن شہر کے علاوہ ابین اور شبوہ صوبوں میں جنم لینے والی صورت حال پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے۔ دونوں ملکوں نے اتحادی ممالک کی جانب سے یمن میں سیاسی، عسکری، امدادی اور ترقیاتی کوششیں جاری رکھنے کا عزم ظاہر کیا۔ سعودی عرب اور امارات کی حکومتوں نے باور کرایا کہ اتحادی فورسز کی کمان کی جانب سے تشکیل دی گئی مشترکہ کمیٹی کے ساتھ تعاون اور پاسداری کی ضرورت ہے۔

یمنی وزیراعظم معین عبدالملک اتوار کے روز ملک کے جنوب مشرقی صوبے شبوہ پہنچے تھے۔

ایک حکومتی ذمے دار نے العربیہ ڈاٹ نیٹ کو بتایا کہ وزیراعظم اور کئی وزراء کی شبوہ صوبے کے صدر مقام عتق شہر میں آمد ہوئی۔ اس سے چند گھنٹے قبل جنوبی عبوری کونسل کی فورسز کے زیر قیادت مسلح بغاوت کی کوشش کو ناکام بنا دیا گیا۔ اس کوشش کا مقصد شبوہ میں عسکری کیمپوں اور ریاستی اداروں پر قبضہ کرنا تھا۔

مذکورہ ذمے دار کے مطابق یمنی وزیراعظم عتق میں خصوصی اجلاسوں کا انعقاد کریں گے۔ ان اجلاسوں میں شبوہ صوبے کے مقامی حکام کے علاوہ عسکری اور سیکورٹی قیادت شریک ہو گی.. اور بغاوت کو ناکام بنائے جانے کے بعد صورت حال کو معمول پر لانے کی کوششیں زیر بحث آئیں گی۔