.

شامی اپوزیشن کا مشرقی خان شیخون میں اسدی فوج پر بڑا حملہ

منگل کے روز گھمسان کی لڑائی میں 50 سے زاید افراد ہلاک

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

شام کی اپوزیشن کے حامی عسکری گروپوں نے منگل کے روز مشرقی خان شیخون پر متعدد اطراف سے ایک بڑا حملہ کیا ہے جس میں اسدی رجیم اور اس کی حامی فورسز کو بھاری جانی اور مالی نقصان اٹھانا پڑا ہے۔

شام میں انسانی حقوق کی صورت حال پر نظر رکھنے والے ادارے المرصد کے مطابق شمالی حماۃ اور خان شیخون پر اسدی فوج کے قبضے کے بعد اس علاقے پر اپوزیشن فورسز کا یہ سب سے بڑا حملہ ہے۔

انسانی حقوق گروپ کے مطابق مشرقی ادلب میں شامی رجیم کی حامی اور اس کی مخالف فورسز کے درمیان خون ریز جھڑپیں جاری ہیں۔ اسدی فوج کے خلاف لڑنے والی تنظیموں میں اپوزیشن کی نمائندہ حراس الدین اور انصار التوحید شامل ہیں۔ اپوزیشن فورسز نے السلومیہ، الجدوعیہ، تل مرق، شم الھویٰ اور مشرق میں التمانعہ سے اسدی فوج پرحملہ کردیا۔

المرصد کے مطابق اپوزیشن فورسز نے آغاز ہی سے بدترین فضائی حملہ کیا جس میں بھاری ہتھیاروں کا استعمال کیا گیا جب کہ دوسری طرف اسدی فوج اور اس کی حامی فوجوں نے جنگی ہیلی کاپٹروں، روسی جنگی طیاروں اور بھاری توپ خانے سے حملہ کیا گیا۔

انسانی حقوق کے گروپوں کے مطابق منگل کے روز ہونے والی لڑائی میں کم سے دونوں متحارب گروپوں کے کم سے کم 51ا فراد ہلاک ہوئے ہیں۔

خیال رہے کہ تین ماہ قبل اپریل کے آخر میں شامی فوج نے خان شیخون پر حملہ کر کے گھمسان کی لڑائی کے بعد علاقے سے اپوزیشن کو نکال باہر کیا تھا۔

مشرقی خان یونس میں منگل کو علی الصباح شامی اپوزیشن اور اسدی فوج کی جھڑپیں شروع ہوئیں۔ خیال رہے کہ جنوبی ادلب اور دیگر اس کے اطراف کے علاقوں پر سنہ 2017ء کو طویل لڑائی کے بعد قبضہ کرلیا تھا۔