.

کیا قطر نے ترکی سے اپنا سرمایہ واپس لینا شروع کر دیا؟

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ترکی اور خلیجی ریاست قطر کو ایک دوسرے کا گہرا حلیف قرار دیا جاتا ہے۔ دونوں نے ایک دوسرے کے ہاں حسب توفیق خوب سرمایہ کاری بھی کر رکھی ہے مگر ذرائع ابلاغ کی رپورٹس کے مطابق قطر ترکی میں کی گئی اپنی سرمایہ کاری ختم کر کے سرمایہ واپس لینے میں مصروف ہے۔

ترکی کے ایک تھینک ٹینک 'یونائیٹڈ ورلڈ انٹرنیشنل' کی ویب سائٹ پر شائع ایک مضمون میں صحافی نور الدین کورٹ نے لکھا ہے کہ قطر نے ترکی میں کی گئی سرمایہ کاری کے منصوبے ختم کرنا شروع کر دیے ہیں۔ ان کا کہا ہے کہ ترکی کی اپوزیشن جماعت پیپلز ری پبلیکن کے سینیر مشیر ایروآن توبراک جو ترک پارلیمنٹ کے رکن بھی ہیں نے قطری سرمائے کی ترکی سے واپسی کے حوالے سے مفصل رپورٹ تیار کی ہے۔

ترک وزارت اقتصادیات کے مطابق سنہ 2002ء سے 2017ء کے دوران قطر نے ترکی میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی۔ ترک وزارت اقتصادیات کے مطابق قطر ترکی میں سرمایہ کاری کرنے والا 19 واں بڑا ملک ہے۔

رواں سال اپریل میں دوحا میں ایک نمائش کے دوران قطری ایوان صنعت وتجارت کے وائس چیئرمین محمد بن اھمد بن توفار الکواری نے کہا تھا کہ ترکی میں قطر کی فی الحقیقت سرمایہ کاری کا حج 18 ارب ڈالر ہے۔ الکواری کے مطابق قطر ترکی میں سرمایہ کاری کرنےوالا دوسرا بڑا ملک ہے۔

مبصرین کا کہنا ہے کہ قطری ایوان صنعت وتجارت کے وائس چیئرمین اور اور ترکی وزارت اقتصادیات کے ترکی میں سرمایہ کاری کے حوالےسے بیانات میں کھلا تضاد ہے۔ ترک وزارت اقتصادیات کے مطابق قطر نے پانچ سال کےدوران ترکی میں ڈیڑھ ارب ڈالر کی سرمایہ کاری کی جب کہ قطری حکام کے مطابق سرمایہ کاری کا حجم اٹھارہ کروڑ ڈالر ہے۔

ترکی میں قطری سرمایہ کاری

ترکی کے ذرائع ابلاغ کے مطابق قطر نے ترکی کے 'الٹرنیٹیو' بنک کے ذریعے سرمایہ کاری کے لیے مختلف اقدامات کیے. اس سے قبل دوحان نے قطر میں Finansbank کے ذریعے اپنا سرمایہ لگایا تھا۔

سنہ 2013ء کو قطر کے کمرشل بنک نے ترکی کے الٹرنیٹو' بنک کے 71 فی صد شیئرز خرید کر اس بنک کے مالکانہ حقوق حاصل کر لیے۔ سنہ 2016ء کو قطر نے اس بنک کو 40 کروڑ 60 لاکھ ڈالر کی اضافی رقم فراہم کی۔ مشرق وسطیٰ اور اور افریقا میں سرمایہ کاری کے حجم میں اضافہ کرتے ہوئے قطر نے اگلے مرحلے میں 'فائنانس' بنک کے 99 اعشاریہ 81 فی صد شیئرز 2 ارب 75 کروڑ ڈالر میں خرید لیے۔

قطر نے ترکی میں سرمایہ کاری کرتے ہوئے ترکی کی ڈیجیٹل کمپنی Digitürk بھی خرید لی۔ یہ کمپنی قطر کے میڈیا گروپ 'بی این' نے خریدی مگر اس کی اصل مالیت اور ڈیلنگ سامنے نہیں لائی گئی بلکہ اس حوالے سے مختلف نوعیت کی افواہیں پھیلائی گئیں۔ بعض ذرائع کے مطابق ترکی ڈیجیٹل کمپنی کی مالیت ایک ارب سے ایک ارب 40 کروڑ لگائی گئی۔

قطری سرمائے کی واپسی

ایردوآن توبراک کی رپورٹ کے مطابق قطر بحیرہ روم کے مشرق میں گیس کے ذخائر کی دریافت کے لیے کوشاں ہے مگر ترکی نے اس طرف کوئی خاص توجہ نہیں دی جب کہ اس منصوبے میں قبرص اور یونان نے امریکی کمپنی کو گیس کے ذخائر کی تلاش کی اجازت دی ہے۔

قطر اور ترکی کے درمیان گہرے سیاسی اور اقتصادی مراسم کے باوجود دونوں ملکوں کو ایک دوسرے سے کئی گلے شکوے بھی ہیں۔

چند ہفتے قبل امیر قطر امریکا کے دورے پرگئے جہاں انہوں نے امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ سے ملاقات کی۔ صدر ٹرمپ نے امیر قطر کو ترکی کےساتھ بڑھتی قربتوں پر سخت تنبیہ کی۔ ذرائع ابلاغ کا کہنا ہے کہ اس تنبیہ کے بعد قطر نے ترکی سے اپنا سرمایہ واپس لینا شروع کر دیا۔

مصری اخبار 'الیوم السابع' کی رپورٹ کےمطابق امیر قطر نے امریکا کے دورے صدر ٹرمپ سے ملاقات کے بعد قطر اور ایران کے خفیہ دورے کیے۔ ان دوروں میں امیر قطر نے کہا کہ وہ تیل کی آمدن کے حجم کو 3 کھرب ڈالر سے زیادہ کرنا چاہتے ہیں۔