.

بغداد کے 'قمار خانے'،منی لانڈرنگ، مافیا اور ملیشیائیں!

پہلی اشاعت: آخری اپ ڈیٹ:

ماضی کا بغداد تہذیبوں کا گہوارا تصور کیا جاتا ہے مگر آج کے بغداد کی شناخت اس کے جوئے خانے، ملیشیائوں کی دہشت گردانہ سرگرمیوں کے مراکز اور مذہب کی آڑ میں جرائم میں ملوث مافیا ہیں۔ مسلح عسکریت پسند گروپ مذہب کی چھتری استعمال کرتے ہوئے بغداد کے جوئے خانوں میں اپنے پیسے کی سرمایہ کاری کرتے اور ہرماہ جوئے کی کھیلوں کے ذریعے کروڑوں ڈالر کماتے ہیں۔

بغداد کے جوئے باز نہ صرف خفیہ بلکہ اعلانیہ جرائم میں ملوث ہیں۔ یہی وجہ ہے کہ حال ہی میں عراقی حکومت نے جرائم کے ایک بڑے اڈے پرچھاپہ مارا اور اس میں کارروائی کی عراق کے ایک بدنام زمانہ قمار باز اور اس کے ساتھیوں کو حراست میں لیا گیا۔

بدنام زمانہ قمار بازوں کی سرگرمیاں وسطی بغداد کے علاقے مریدیان کے فلسطین ہوٹل میں جاری تھیں۔

حکام کا کہنا ہے کہ چھاپہ مار کارروائی کےدوران یہ معلوم ہوا ہے کہ جوئےباز کئی دوسرے سنگین جرائم میں ملوث تھے۔ ان جرائم میں منشیات کا دھندہ کرنے اور جنسی مقاصد کے لیےخواتین کی خریدوفرخت جیسے جرائم بھی شامل تھے۔ حیران کن امر یہ ہے کہ اس گروپ میں ایرانی حمایت یافتہ الحشد الشعبی کے ارکان کے شامل ہیں۔ ان جرائم پیشہ عناصر کو ملک کے با اثر افراد کی سرپرستی حاصل تھی۔ اسی وجہ سے وزیراعظم عادل المہدی اور مسلح افواج کے جنرل کمانڈر کو اس جرائم پیشہ نیٹ ورک کے خلاف کارروائی کرنا پڑی۔

حمزہ الشمری کی گرفتاری

عراق کی سیکیورٹی فورسز نے بدنام زمانہ جوئے باز، فحاشی کےاڈے چلانے اور منشیات کی اسمگلنگ میں ملوث جرائم پیشہ عناصر کا سرغہ اور اس کے 25 معاونت کاروں کو حراست میں لے لیا ہے۔ جرائم کی دنیا کے اس بدنام زمانہ اور مکروہ کردار کے معاونت کاروں میں ایرانی حمایت یافتہ شیعہ ملیشیا الحشد الشعبی سےمنسلک افراد بھی شامل ہیں۔

العربیہ ڈاٹ نیٹ کے مطابق عراقی سیکیورٹی فورسز کے مطابق پولیس نے دارالحکومت بغداد سمیت ملک کے دوسرے شہروں میں چھاپوں کے دوران مافیا کے سرغنہ حجی حمزہ الشمری کو حراست میں لینے کے ساتھ اس کے جرائم کے تمام اڈوں جن میں جوئے خانے، فحاشی کے اڈے، منشیات کے دھندہ خانےبند کردیے ہیں۔

عراقی سیکیورٹی فورسز کے مطابق جرائم پیشہ اشتہاریوں کو حراست میں لینے کے ساتھ ان کے قبضے سے منشیات، رقوم اور دیگر اشیاء قبضے میں لے لی گئی ہیں اور تمام گرفتار افراد کے خلاف قانونی کارروائی شروع کردی گئی ہے۔

خیال رہے کہ عراق میں جرائم پیشہ مافیا کے خلاف یہ کارروائی وزیراعظم عادل عبدالمہدی کی ہدایت پرعمل میں لائی گئی۔ یہ گروپ جسے الحشد کی حمایت حاصل رہی ہے منشیات کی اسمگلنگ، جوئے خانے چلانے اور خواتین کی خریدو فروخت کے مکروہ دھندے میں ملوث تھا۔ ملک کے با اثر افراد اس گروپ کی پشت پناہی کررہے جس کی وجہ سے اس کے خلاف کارروائی میں مشکلات پیش آ رہی تھیں۔

الحشد الشعبی ملوث

جرائم کی دنیا کے بدنام زمانہ سرغنہ حجی حمزہ کے بارے میں مشہور ہے کہ وہ منشیات کی اسمگلنگ، فحاشی کے اڈوں اور جوئے خانوں سے یومیہ ایک ملین ڈالر کماتا رہا ہے۔ اس نے عراق کے بڑے بڑے لگژری ہوٹلوں اور نائیٹ کلبوں میں اپنے اڈے بنا رکھے تھے۔ اس کا تعلق ایرانی حمایت یافتہ الحش الشعبی ملیشیا کے عناصر بھی ملوث ہیں۔

خیال رہے کہ عراق میں نائیٹ کلبوں، شراب کی خریدو فروخت کے غیرمجاز اڈوں اور دیگر جرائم کے مراکز کی بڑی تعداد پائی جاتی ہے مگر عراقی سیکیورٹی فورسز ان پراس لیے ہاتھ نہیں ڈال سکتی تھیں کہ ان کے پیچھے با اثر لوگوں کا ہاتھ تھا۔ سیکیورٹی فورسز اس کے ان کے خلاف کارروائی سے کتراتے تھے کہ ان جرائم پیشہ افراد کی طرف سے سیکیورٹی اہلکاروں اور ان کے خاندانوں کی جان کوخطرات لاحق ہوسکتے ہیں۔

حمزہ الشمری کو الحشد ملیشیا کی اعلیٰ قیادت کی حمایت حاصل تھی اور تنظیم کی طرف سے بڑے پیمانے پر جوئے،قمار بازی اور دیگر جرائم میں سرمایہ کاری کررکھی تھی۔